Categories: پاکستان

زیرحراست ہلاکتیں،آئی ایس آئی، ایم آئی کونوٹس

اسلام آباد (بی بی سی اردو ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد میں سے چار افراد کی ہلاکت سے متعلق وفاقی حکومت، سیکرٹری دفاع، ڈی جی آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے جواب طلب کرلیا ہے۔
ان افراد کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سنہ دوہزار نو میں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا تھا تاہم رہائی کے فوری بعد خفیہ اداروں کے اہلکار اُنہیں مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے تھے۔
سپریم کورٹ میں جب یہ معاملہ پیش ہوا تو پہلے خفیہ ادارے اس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے تھے تاہم سپریم کورٹ نے جب انٹرسروسز انٹیلیجنس کے سربراہ کو نوٹس جاری کیا تو پھر اُن کے وکیل راجہ ارشاد نے نو دسمبر سنہ دوہزار دس میں عدالت کو بتایا کہ یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں اور یہ افراد جی ایچ کیو کے علاوہ فوج کی دیگر تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں اور اُنہیں آرمی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان ہلاکتوں سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست کی ابتدائی سماعت کی تو درخواست گُزار طارق اسد نے عدالت میں اُن چار افراد کی موبائل کیمرے سے لی گئی ویڈیو تصاویر بھی پیش کیں جنہیں اُن کے بقول تشدد اور بھوکا رکھ کر ہلاک کیا گیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اب ان افراد کو قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تو پھر اُن کے خلاف مقدمات چلنے چاہیں تھے۔
طارق اسد نے عدالت کو بتایا کہ ان گیارہ افراد میں سے تین افراد کو گُزشتہ برس تحویل کے دوران قتل کرنے کے بعد اُن کی لاشیں پشاور میں سڑک کے کنارے پھینک دی گئی تھیں جبکہ عبدالصبور کو اس ماہ کی بیس تاریخ کو قتل کرنے کے بعد اُس کی لاش بھی پشاور میں سڑک کے کنارے پھینک دی گئی تھی۔
طارق اسد کے مطابق ان فراد کی لاشیں سڑک پر پھیکنے کے بعد خفیہ ایجنسوں کے اہلکار اُن کے رشتہ داروں کو فون کرتے ہیں کہ وہ آکر اُن کی لاشیں لے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے بھی ان افراد کی موت کو غیر طبعی قرار دیا ہے۔
اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ وہ چونکہ چوبیس جنوری کو متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اس لیے وہ اس معاملے کو نہیں دیکھ سکے لہذا اُنہیں کچھ مہلت دی جائے جس پر عدالت نے اُنہیں تیس جنوری تک جواب داخل کروانے کا حکم دیا ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

4 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago