مقامی خبررساں اداروں کے مطابق ’’راسک‘‘ شہر میں واقع مسجدخضرا کے خطیب مولوی مصطفی جنگیزہی کو گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ جمعہ پڑھانے کے بعد گھر واپس جارہے تھے، انہیں ساتھ دینے والا ایک اور شخص بھی موقع پر جاں بحق ہوا۔
یاد رہے اب تک کسی فرد یا گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جب کہ مولوی جنگیزہی کے قتل کے پیچھے ممکنہ محرکات واسباب اب تک واضح نہیں ہیں۔
صوبے کی متعدد سیاسی و مذہبی شخصیات بشمول دارالعلوم زاہدان کی اساتذہ کمیونٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرحوم کی مکمل مغفرت اور پس ماندگان کیلیے صبرجمیل کی دعا کی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…