مقامی خبررساں اداروں کے مطابق ’’راسک‘‘ شہر میں واقع مسجدخضرا کے خطیب مولوی مصطفی جنگیزہی کو گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ جمعہ پڑھانے کے بعد گھر واپس جارہے تھے، انہیں ساتھ دینے والا ایک اور شخص بھی موقع پر جاں بحق ہوا۔
یاد رہے اب تک کسی فرد یا گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جب کہ مولوی جنگیزہی کے قتل کے پیچھے ممکنہ محرکات واسباب اب تک واضح نہیں ہیں۔
صوبے کی متعدد سیاسی و مذہبی شخصیات بشمول دارالعلوم زاہدان کی اساتذہ کمیونٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرحوم کی مکمل مغفرت اور پس ماندگان کیلیے صبرجمیل کی دعا کی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام