مقامی خبررساں اداروں کے مطابق ’’راسک‘‘ شہر میں واقع مسجدخضرا کے خطیب مولوی مصطفی جنگیزہی کو گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ جمعہ پڑھانے کے بعد گھر واپس جارہے تھے، انہیں ساتھ دینے والا ایک اور شخص بھی موقع پر جاں بحق ہوا۔
یاد رہے اب تک کسی فرد یا گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جب کہ مولوی جنگیزہی کے قتل کے پیچھے ممکنہ محرکات واسباب اب تک واضح نہیں ہیں۔
صوبے کی متعدد سیاسی و مذہبی شخصیات بشمول دارالعلوم زاہدان کی اساتذہ کمیونٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرحوم کی مکمل مغفرت اور پس ماندگان کیلیے صبرجمیل کی دعا کی ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…