مقامی خبررساں اداروں کے مطابق ’’راسک‘‘ شہر میں واقع مسجدخضرا کے خطیب مولوی مصطفی جنگیزہی کو گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ جمعہ پڑھانے کے بعد گھر واپس جارہے تھے، انہیں ساتھ دینے والا ایک اور شخص بھی موقع پر جاں بحق ہوا۔
یاد رہے اب تک کسی فرد یا گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جب کہ مولوی جنگیزہی کے قتل کے پیچھے ممکنہ محرکات واسباب اب تک واضح نہیں ہیں۔
صوبے کی متعدد سیاسی و مذہبی شخصیات بشمول دارالعلوم زاہدان کی اساتذہ کمیونٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرحوم کی مکمل مغفرت اور پس ماندگان کیلیے صبرجمیل کی دعا کی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان