جنگجووں نے قصبے پر چاروں طرف سے حملہ کیا اور مقامی پولیس کی معمولی مزاحمت کے بعد علاقے پر قابض ہوگئے۔ردا کی آبادی 60ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
یمن کی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ابو یحییٰ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ردا کو القاعدہ سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگجووں کا اگلا ہدف اب مارب ہوگا جس پر قبضے کی صورت میں وہ دارالحکومت صنعا کے مزید قریب پہنچ جائیں گے۔صوبہ ابیان میں بھی متعدد قصبے القاعدہ کے کنٹرول میں آچکے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…