جنگجووں نے قصبے پر چاروں طرف سے حملہ کیا اور مقامی پولیس کی معمولی مزاحمت کے بعد علاقے پر قابض ہوگئے۔ردا کی آبادی 60ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
یمن کی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ابو یحییٰ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ردا کو القاعدہ سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگجووں کا اگلا ہدف اب مارب ہوگا جس پر قبضے کی صورت میں وہ دارالحکومت صنعا کے مزید قریب پہنچ جائیں گے۔صوبہ ابیان میں بھی متعدد قصبے القاعدہ کے کنٹرول میں آچکے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان