پاکستانی نژاد ڈاکٹر علی ماجد دنیا کے پہلے نابینا جج ہیں جو 14 سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور جج کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر ماجد سیکنڈ ایئر کے طالب علم تھے تو قدرتی طور پر انکی بینائی ختم ہوگئی لیکن انہوں نے تمام مشکلات کے باوجود تعلمی سرگرمیاں جاری رکھیں اور پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد برطانیہ سے ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کرلی۔
ڈاکٹر ماجد کے لئے 2003 میں برطانوی ہاؤس آف کامن میں ایک قانون پاس ہوا جس کے بعد نا بینا شخص بھی جج کے فرائص سر انجام دے سکتاہے۔
دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے والے ڈاکٹر ماجد پاکستان میں نابینا افراد کے لئے روزگار میں خصوصی معاونت کر رہے ہیں اور وہ ان کے لیے اسپتال بھی بنانا چاہتے ہیں جہاں غریب نابینا افراد کا مفت علاج کیا جائے گا۔
ڈاکٹر امیر علی ماجد کو حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز اور امن ایوارڈبھی مل چکا ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید