استغاثہ کی جانب سے سابق صدر حسنی مبارک کو پھانسی دینے کا مطالبے نے مبصرین کوحیران کر دیا ہے۔ قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ پہلا موقعہ ہے کہ استغاثہ نے اتنے واضح انداز میں صدر حسنی مبارک کے لیے پھانسی کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ سال فرروی میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد حسنی مبارک نے زیادہ وقت ہسپتال میں گزار ہے جہاں سے انہیں ان عدالت میں لایا جاتا ہے ۔سابق صدر کو سٹریچر کی مدد سے قاہرہ میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کارروائی کو ریاستی ٹی وی نے نشر کیا۔
حسنی مبارک پر بدعنوانی کا الزام ہے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کو مارنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
سابق صدر کے دو بیٹے العاء اور جمال، سابق وزیرِ داخلہ اور چھ سینیئر اہلکار بھی کٹہرے میں موجود تھے۔ تمام ملزمان نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
ستمبر میں ایک بند کمرہ سماعت میں برسرِ اقتدار فوجی کونسل کے سربراہ اور سابق وزیرِ دفاع فیلڈ مارشل محمد حسین تنتاوی نے کہا تھا کہ حسنی مبارک نے کبھی مظاہرین کو گولی مارنے کا حکم نہیں دیا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام