مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عمرالبشیر کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ “سوڈان ہمیشہ ان ممالک کی فہرست میں رہا ہے جو فلسطینیوں کی بے لوث مدد اور حمایت کرتے رہے ہیں۔ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کو پانچ سال گذر چکے ہیں اور اسرائیل نے شہر کے تمام بری، بحری اور فضائی راستے بند کر رکھے ہیں۔ ایسے مشکل حالات میں سوڈان نے بڑھ چڑھ کر محصورین غزہ کی مدد کی ہے، جسے غزہ کےعوام کبھی فراموش نہیں کر سکتے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر عمر البشیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں غزہ کے علاوہ بیت المقدس اور قبلہ اول کو درپیش خطرات پربھی تفصیل سےتبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران ہمارے اور سوڈانی حکام کے درمیان قبلہ اول اور بیت المقدس کے بارے میں موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔
وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے تمام عالم اسلام اورعرب ممالک پر زور دیا کہ وہ قبلہ اول کو درپیش خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیارکریں۔
ان کا کہنا تھاکہ بیت المقدس کو بچانے کے لیے اہالیان القدس کی مدد ضروری ہے۔ عالم اسلام کو چاہیےکہ وہ بیت المقدس کے باشندوں کی ہر ممکن مدد کریں۔
خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں قائم اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” کی حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ گذشتہ پانچ سال سے بیرونی دورے پر نہیں جا سکے ہیں۔ اس سال عرب میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد ان کے بیرون ملک دورے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ وہ ان دنوں مختلف عرب ممالک کے دوروں پر ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان