مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ نیٹو کی سپلائی بند کرنا مثبت ا قدام ہے، حکومت مستقل طور پر اس فیصلہ پر قائم رہے اور اب اس نام نہاد جنگ سے باہر نکل جانا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ بلیک واٹر کے نام پر آنے والے امریکیوں کو واپس بھیج دینا چاہئے اور امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ خفیہ معاہدوں کو بھی منظر عام پر لایا جائے ، میمو اسکینڈل نے پورے ملک کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اعظم سواتی کے استعفے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا نے کہا کہ استعفے کا تعلق ان کی اپنی ذات سے ہے، ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت بہترانداز میں چل رہی ہوتی تو ہم الگ نہ ہوتے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام