مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ نیٹو کی سپلائی بند کرنا مثبت ا قدام ہے، حکومت مستقل طور پر اس فیصلہ پر قائم رہے اور اب اس نام نہاد جنگ سے باہر نکل جانا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ بلیک واٹر کے نام پر آنے والے امریکیوں کو واپس بھیج دینا چاہئے اور امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ خفیہ معاہدوں کو بھی منظر عام پر لایا جائے ، میمو اسکینڈل نے پورے ملک کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اعظم سواتی کے استعفے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا نے کہا کہ استعفے کا تعلق ان کی اپنی ذات سے ہے، ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت بہترانداز میں چل رہی ہوتی تو ہم الگ نہ ہوتے۔
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…