مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ نیٹو کی سپلائی بند کرنا مثبت ا قدام ہے، حکومت مستقل طور پر اس فیصلہ پر قائم رہے اور اب اس نام نہاد جنگ سے باہر نکل جانا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ بلیک واٹر کے نام پر آنے والے امریکیوں کو واپس بھیج دینا چاہئے اور امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ خفیہ معاہدوں کو بھی منظر عام پر لایا جائے ، میمو اسکینڈل نے پورے ملک کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اعظم سواتی کے استعفے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا نے کہا کہ استعفے کا تعلق ان کی اپنی ذات سے ہے، ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت بہترانداز میں چل رہی ہوتی تو ہم الگ نہ ہوتے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان