افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو دو ہزار چودہ میں واپس چلے جانا ہے لیکن نئے تجویز کردہ منصوبے کے مطابق امریکہ کے ساتھ دس سال پر محیط سکیورٹی معاہدہ کیا جائے گا۔ اس سے پہلے افغانستان کے صدرحامد کرزئی امریکہ کے ساتھ دس سالہ سٹریٹیجک تعاون پر بات چیت کے لیے قبائلی رہنمائوں اور عمائدین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی فوج دو ہزار چودہ میں دیگر بین القوامی افوج کے انخلا کے بعد بھی افغانستان میں رہے گی لیکن کابل میں ہوئے روایتی لویہ جرگے میں شامل مندوبین نے اس منصوبے کے لیے بعض شرائط رکھی ہیں۔
چار روزہ جرگے میں شامل مندوبین نے منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن ان کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کسی معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بھی بن سکتی ہیں۔ پہلے ہی اس مسئلے پر ہونے والے مذاکرات لگ بھگ ایک سال جاری تھے۔
جرگے کے مندوبین نے بین القوامی فوج کی جانب سے رات کے وقت کیے جانے والے حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جنہیں افغان نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی فوجی ایسے حملوں کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام