ؔ ’’سنی آن لائن‘‘ کے ذرائع کے مطابق حافظ محمداسماعیل کی یزد جیل منتقلی اچانک واقع ہوئی، انہیں گزشتہ سال یکم نومبر کو انٹیلیجنس حکام نے زاہدان میں گرفتارکیاتھا جو کئی مہینوں تک ٹرائل کے بغیر انٹیلیجنس حکام کی قید میں رہیں۔
بالاخر زاہدان کی ایک مقامی عدالت نے حافظ محمداسماعیل کو دس برس قید کی سزا سنائی جن سے چار برس معطل تھے۔ ان پر سعودی حکومت سے تعلقات سمیت دیگر بے بنیاد الزامات تھے۔
یاد رہے عدالتی فیصلے میں ان کی جلاوطنی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا، اس کے باوجود انٹیلیجنس حکام نے انہیں اچانک زاہدان جیل سے یزد منتقل کیا ہے جو قانون کے خلاف اقدام ہے۔ یزد شہر زاہدان سے 890 کلومیٹر دور ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان