ذرائع ابلاع کی رپورٹس کے مطابق افغان لویہ جرگہ جو آئندہ ماہ ہو رہا ہے جس میں ممکنہ طور پر افغانستان میں دیر پا بنیادوں پر امریکی فوجی اڈوں کی تعیناتی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس موقع پر طالبان ترجمان ذبیع اﷲ مجاہد کی طرف سے انگریزی زبان میں ایک پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں دھمکی دی گئی ہے کہ لویہ جرگہ کے شرکاء کا ملک بھر میں تعاقب کیا جائے گا اور انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں طالبان کے حامیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر اس سکیورٹی گارڈ اور شخص جو اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہو اسے نشانہ بنائیں۔
چار روزہ اجلاس جسے افغانستان میں لویہ جرگہ کا نام دیا جاتا ہے دارالحکومت کابل میں نومبرکے آخر میں ہوگا جس میں دو ہزار سے زائد سیاستدان، قبائلی عمائدین، کمیونٹی رہنمائ، تاجر اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس مشاورتی عمل کا حصہ ہوگا اور اس کے فیصلوں کی حکومت پابند نہیں ہوگی۔
قبل ازیں رواں ماہ کے شروع میں طالبان اتحادی فوج کے مکمل انخلاء تک جنگ جاری رکھنے کا اعادہ کر چکے ہیں۔ ادھر افغان لویہ جرگہ کی ترجمان صفیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کی دھمکی سے لاعلم ہیں اس لئے وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گی۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار