’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مجلس شورائے اسلامی سے بدھ انیس اکتوبر میں خطاب کرتے ہوئے محمدرضا سجادیان نے کہا تہران میں سنی برادری کو پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
آئین کے آرٹیکل نمبر بارہ سے استدلال کرتے ہوئے صوبہ خراسان کے شہر خاف کے نمایندے نے اراکین پارلینٹ و سپیکر سے کہا: حکومت سنی مساجد کے ائمہ و خطباء کے تعین میں مداخلت کرتی ہے جو آئین کے آرٹیکل بارہ کے بالکل خلاف ہے۔ حکومت سنی مدارس و مساجد کے مسائل میں مداخلت سے گریز کرے اور ان کی خودمختاری پامال نہ کرے۔
یاد رہے تہران میں رہنے والے سنی مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے، مزید برآں گزشتہ دو سالوں سے باجماعت نماز پڑھنے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے تحقیق کرنے والے اقوام متحدہ کے خاص رپورٹر برائے ایران، احمد شہید نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اس مسئلے کو بھی واضح کیاہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان