اس پیش رفت کے بعد انقلابی فوجیوں اور قذافی نواز مسلح جنگجوٶں کے درمیان ایک ہفتے سے بند لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی جبکہ قذافی کے حامیوں نے سرت کے محاذ پر دوبارہ جوابی حملہ کر کے انقلابیوں کو وہاں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
دارلحکومت طرابلس سے 170 کلومیٹر جنوب میں واقع بنی ولید فرنٹ کے کمانڈر موسیٰ یونس نے “اے ایف پی” کو بتایا کہ ایک رو پوش کرنل قذافی کے حامیوں اور انقلابی فوجیوں کے درمیان شہر میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ہمارے فوجی شمالی اور جنوبی محاذ پر پیش قدمی کر رہے ہیں۔
الزاویہ شہر کے ایک اور فیلڈ کمانڈر کا کہنا ہے کہ ان کی فوج بنی ولید کے جنوبی داخلی راستے پر پوزیشنز سنبھال رہی ہیں۔ دونوں جانب سے لڑائی میں بھاری توپخانے کا استعمال جاری ہے۔
عبوری قومی کونسل کے وفادار فوجیوں نے بنی ولید شہر کا ایک ماہ سے محاصرہ کر رکھا ہے جہاں قذافی کے پندرہ سو حامی ہتھیاربند ہوکر ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔
نئی حکومت کی وفادارفوج کو گذشتہ ہفتے اس وقت ہوائی اڈے کے علاقے سے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کا رابطہ وہاں پرتعنیات یونٹوں سے منقطع ہو گیا۔ اس دوران ہونے والی لڑائی میں ایک دن کے اندر سترہ افراد ہلاک جبکہ اسی زخمی ہوگئے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان