جمعرات کو جاری کی گئی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ اگست کو مشن پر جانے والے کسی اہلکار کی اس میں کسی قسم کی غلطی سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ میں ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر طالبان عسکریت پسندوں کی کسی سازش کا نشانہ بنا۔ راکٹ حملے کہ وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ دراصل اس علاقے میں تین گھنٹوں سے زائد جاری اتحادی افواج کی فضائی کارروائی کے باعث ’’دشمن انتہائی چوکس تھا‘‘۔
رپورٹ کے مطابق پروں پر راکٹ لگنے کے بعد ہیلی کاپٹر زمین پر گرا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
صوبہ وردک کے علاقے وادی تنگی میں پیش آنے والے اس واقعے میں امریکہ کے انتہائی تربیت یافتہ نیوی سیلز کے ارکان سمیت 30 فوجی، سات افغان فوجی اور ایک افغان مترجم ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک دہائی سے جاری افغان جنگ میں کسی ایک ہی واقعے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان