میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی اور اس پر وفاق سے جواب طلب کرتے ہوئے مقدمے کے فیصلے تک ممتاز قادری کی سزا پر عملدر آمد روک دیا ہے۔ ممتاز قادری کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف پیش ہوئے۔
واضح رہے کہ ممتاز قادری کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف ممتاز قادری نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی جو سماعت کے لیے منظور کر لی گئی۔
ممتاز قادری کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ خواجہ شریف کا کہنا ہے کہ مجرم کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے اور وفاق کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے پنجاب پولیس کی انتہائی تربیت یافتہ ’ایلیٹ فورس‘ میں شامل ممتاز قادری مقتول گورنر کے حفاظتی دستے میں شامل تھا اور اس نے چار جنوری کو سلمان تاثیر کو اس وقت گولیاں کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ اسلام آباد میں ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھانے کے بعد گھر واپس جانے کے لیے اپنی گاڑی میں سوار ہو رہے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان