امریکی وزیردفاع نے یہ بات واشنگٹن سے اپنے ساتھ طیارے پر سفر کرنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔وہ آج سوموار کواسرائیلی اور فلسطینی قیادت سے ملاقات کرنے والے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے لیے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ وہ مصر اور خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائے کیونکہ ماضی میں یہ تعلقات مفید ثابت ہوئے ہیں۔
مسٹر پینیٹا نے صحافیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ”اس حوالے سے میرے ذہن میں کوئی سوال نہیں کہ انھیں (اسرائیل کو) فوجی برتری حاصل ہے۔لیکن آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ جب آپ سفارتی منظرنامے میں الگ تھلگ ہوجائیں تو کیا یہ فوجی برتری ایسی صورت میں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے؟”
انھوں نے کہا کہ ”مشرق وسطیٰ کے اس ڈرامائی دور میں جب بہت سی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ،اسرائیل کے لیے یہ کوئی بہتر صورت حال نہیں ہے کہ وہ بڑی تیزی سے تنہا ہوتا جارہا ہے اورایسا ہورہا ہے”۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو مصر اور ترکی جیسے ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور امریکا اس سلسلہ میں مدد دینے کو تیار ہے۔
امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ”میرے خیال میں خطے میں سکیورٹی کے مفاد میں یہ بات اہم ہے کہ ہم اسرائیل کی ترکی اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں مدد دیں”۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی لیڈر معاملے کی نزاکت سے آگاہ ہیں۔
اسرائیلی وزیردفاع ایہودباراک اور دوسرے اسرائیلی اور فلسطینی لیڈروں کے ساتھ اپنی ہونے والی بات چیت کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ وہ فریقین پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے زوردیں گے۔انھوں نے امریکی انتظامیہ کا یہ موقف دُہرایا کہ فلسطینیوں کو اپنی ریاست کے قیام کے لیے اقوام متحدہ سے قرارداد منظور کرانے کے لیے کوشش کے بجائے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات بحال کرنے چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ”اقوام متحدہ سے رجوع کرنے سے خطے میں امن قائم نہیں ہوگا”۔
امریکا فلسطینی ریاست کو یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ سے تسلیم کرانے کی کوششوں کی مخالفت کررہا ہے اور فلسطینی قیادت کو عالمی ادارے سے رجوع کرنے سے باز رکھنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتا رہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے ہی میں قائم کی جانی چاہیے لیکن فلسطینیوں اوراسرائیل کے درمیان گذشتہ ایک سال سے براہ راست مذاکرات منقطع ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد ہونے تک صہیونی قیادت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات سے انکار چکے ہیں۔اسرائیل نے اس مطالبے کو قابل اعتناء سمجھنے کے بجائے گذشتہ ہفتے ہی مغربی کنارے میں گیارہ سو اور مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے جس سے صورت حال اور بھی پیچیدہ ہوگئی ہے اور مستقبل قریب میں فریقین کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کا امکان نظر نہیں آتا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار