Categories: مشرق وسطی

شامی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مزید 13 شہری ہلاک

دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں) شام کے وسطی شہرحماہ میں جمعہ کو سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید تیرہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ امریکا نے شام سے اپنے سفارت کاروں کو تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شام کے جنرل انقلاب کمیشن کے ترجمان علی حسن نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پانچ افراد حماہ کے نواحی علاقے، چھے وسطی حماہ اور ایک بچہ الرستن میں مارا گیا ہے۔
اس دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ منحرف فوجی یونٹوں نے اب شامی صدر کے خلاف کے مظاہرے کرنے والے شہریوں کو تحفظ مہیا کرنا شروع کردیا ہے۔صدر بشارالاسد کے خلاف تحریک میں سرگرم کارکنان نے العربیہ کو بتایا ہے کہ”اللہ کا شکریہ ہے اب فوج ہمارا دفاع کررہی ہے۔شہری شام کی آزاد فوج میں شامل ہورہے ہیں اور ہم اپنے دفاع کے لیے مسلح ہورہے ہیں”۔
وسطی شہر حمص میں بھی سکیورٹی فورسز نے صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہرے میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک شہری کو ہلاک کردیا ہے۔گذشتہ روز حمص میں دوبچوں سمیت چھے افراد مارے گئے تھے۔
شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے کہ حمص میں مسلح دہشت گرد گروپوں نے دس سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ شمال مغربی صوبہ ادلب میں ایک بچہ مارا گیا ہے۔ساناکی رپورٹ کے مطابق دوافسروں سمیت سات فوجی الرستن اور سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار تل کلخ میں مارے گئے ہیں۔
درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی سفارت کاروں کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کرے۔ انھوں نے یہ بیان شامی صدربشارالاسد کے حامیوں کے دمشق میں متعین امریکی سفیر رابرٹ فورڈ کے قافلے پرگذشتہ روز پتھراؤ اور ٹماٹر پھینکنے کے واقعہ کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔
ہلیری کلنٹن کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی صدر کے حامیوں کے ہجوم نے رابرٹ فورڈ اور دوسرے سفارتی عملے پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے امریکی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور سفارتی عملے کی جانب ٹماٹر پھینکے۔
امریکی سفیر رابرٹ فورڈ اپوزیشن کے ایک رکن سے ان کے دفتر میں ملاقات کے لیے گئے تھے۔اس دوران صدربشارالاسد کے حامی وہاں جمع ہوگئے اور انھوں نے سفیر کو ایک عمارت کے اندرمحصور کردیا۔اپوزیشن کے رکن حسن عبدالکریم نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کم سے کم دو سو مظاہرین نے دمشق میں واقع ان کے دفتر میں امریکی سفیرکی آمد کے بعد دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی اور انھوں نے دفتر کی عمارت کا محاصرہ کر لیا۔
انھوں نے کہا کہ ”حکومت کے وفادار ان کے دفتر کے باہر شاہراہ پر مظاہرہ کررہے تھے۔انھوں نے میرے دفتر کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ شامی صدر کے حامیوں کی موجودگی کے بعد امریکی سفیر رابرٹ فورڈ قریباً دو گھنٹے تک سکیورٹی فورسز کی آمد کا انتظار کرتے رہے تھے تاکہ وہ ان کی معیت میں وہاں سے بہ حفاظت سفارت خانے جاسکیں”۔
اس واقعے کے رونما ہونے کے فوری بعد شامی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں امریکا پر مسلح گروپوں کو تشدد پر ابھارنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکا مسلح گروپوں کو شامی فوج پرحملوں کے لیے اکسا رہا ہے۔بیان کے مطابق ”امریکی حکام اور خاص طور پر امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر کے بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکا مسلح گروپوں کی شامی فوج کے خلاف تشددآمیز کارروائیوں کے لیے حوصلہ افزائی کررہا ہے”۔

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

5 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago