’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مولوی غوث الدین مشہد کے ایک اسپتال میں زیرِعلاج تھے، آپ سرجری آپریشن کے بعد بیہوش ہوگئے تھے جو بدھ کے روز اس فانی دنیا سے کوچ کر چلے گئے۔
مولوی غوث الدین احراری 1972ء سے لیکر موت تک صوبہ خراسان کے شہر ’خواف‘ میں جمعہ و عیدین کو خطابت و امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ خواف میں واقع ممتاز دینی ادارہ ’حوزہ علمیہ خواف‘ میں تدریس بھی کرتے تھے۔
مرحوم کی پیدائش 1933ء میں ہوئی، آپ نے ابتدائی کتابیں اپنے والد سابق خطیب خواف ’خواجہ صدرالدین‘ رحمہ اللہ سے پڑھیں۔
ادارہ ’’سنی آن لائن‘‘ مرحوم کے پس ماندگان، علاقے کے علماء و طلبہ سمیت تمام سنی شہریوں سے تعزیت کا اظہار کرتاہے، دعا ہے اللہ تعالی مولوی غوث الدین کی مکمل مغفرت کرکے ان کی قبر کو پرنور فرمادے اور انہیں شہداء وصالحین کے ساتھ محشور فرمائے۔ آمین
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام