خواتین نے یورپین عدالت برائے انسانی حقوق میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 32 سالہ ہنداحماس کو120 یوروجرمانہ جبکہ36سالہ نجاتے نائت علی کو80 یورو جرمانہ کا حکم دیاگیا ہے تاہم استغاثہ کی جانب سے ان کیلئے شہریت کے کورس کی استدعا مسترد کردی گئی۔ دونوں خواتین عدالتی کارروائی میں شرکت کیلئے تاخیر سے پہنچیں۔
مئی میں ان میںسے ایک خاتون کو نقاب اتارنے سے انکار کے بعد عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ان خواتین کو مئی میں میاکس کے ٹائون ہال کے سامنے سے گرفتار کیاگیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر اعلیٰ عدالت نے ان کے جرمانے کی تصدیق کردی تو وہ اس مقدمہ کو سٹراس برگ میں حقوق انسانی کی یورپین عدالت میں لے جائینگے۔
فرانسیسی حکام کا اندازہ ہے کہ فرانس میں مقیم چار سے چھ ملین مسلم آبادی میں سے تقریباً دو ہزارخواتین مکمل چہرے کا نقاب اوڑھتی ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان