’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق تہران کی سکیورٹی پولیس نے اپنے فورسز کو مختلف مقامات پر متعین کردیا تھا جہاں سنی برادری کی نمازعید کیلیے مختص مکانات کو بلاک کیاگیا، فورسز نے کرایے کے مکانات کو اپنے حصار میں لینے کے بعد آنے والے عبادتگزاروں کو داخل ہونے سے روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے مذکورہ مکانات کو نشاندہی کے بعد وہاں رہنے والے افراد کے شناختی کارڈز اپنے قبضے میں لیاہے۔
اطلاعات ہیں کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی سنی برادری کو عیدالفطر کی نماز پڑھنے سے روک دیاگیاہے جہاں سنی مسلمان اقلیت میں ہیں۔
یاد رہے تہران دنیا میں واحد دارالحکومت ہے جہاں سنی مسلمانوں کی کوئی مسجد نہیں ہے، لوگ پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ و عیدین کی ادائیگی کیلیے کرایے کے مکانات میں اپنے مالک کی عبادت کرنے پر مجبور تھے، لیکن اب انہیں مذکورہ مکانات میں بھی باجماعت نماز پڑھنے سے روک دیاگیاہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام