’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق تہران کی سکیورٹی پولیس نے اپنے فورسز کو مختلف مقامات پر متعین کردیا تھا جہاں سنی برادری کی نمازعید کیلیے مختص مکانات کو بلاک کیاگیا، فورسز نے کرایے کے مکانات کو اپنے حصار میں لینے کے بعد آنے والے عبادتگزاروں کو داخل ہونے سے روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے مذکورہ مکانات کو نشاندہی کے بعد وہاں رہنے والے افراد کے شناختی کارڈز اپنے قبضے میں لیاہے۔
اطلاعات ہیں کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی سنی برادری کو عیدالفطر کی نماز پڑھنے سے روک دیاگیاہے جہاں سنی مسلمان اقلیت میں ہیں۔
یاد رہے تہران دنیا میں واحد دارالحکومت ہے جہاں سنی مسلمانوں کی کوئی مسجد نہیں ہے، لوگ پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ و عیدین کی ادائیگی کیلیے کرایے کے مکانات میں اپنے مالک کی عبادت کرنے پر مجبور تھے، لیکن اب انہیں مذکورہ مکانات میں بھی باجماعت نماز پڑھنے سے روک دیاگیاہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان