شام میں حقوق انسانی تنظیم کے مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے جنوبی صوبے درعا میں پندرہ،ہومز میں چھ،دمشق اور دوما میں ایک ایک شہری کو گولیوں کا نشانہ بنایا، دیگر شہروں میں دس مظاہرین ہلاک ہوئے،یہ تمام لوگ نماز جمعہ کے بعد صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاج میں شریک تھے.
مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک دوہزار سے زائد افراد فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں.
دوسری طرف روس اور ترکی نے امریکی صدر باراک اوباما کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے بشارالاسد سے فوری طور پرمنصب صدارت چھوڑنے کامطالبہ کیا تھا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام