شام میں حقوق انسانی تنظیم کے مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے جنوبی صوبے درعا میں پندرہ،ہومز میں چھ،دمشق اور دوما میں ایک ایک شہری کو گولیوں کا نشانہ بنایا، دیگر شہروں میں دس مظاہرین ہلاک ہوئے،یہ تمام لوگ نماز جمعہ کے بعد صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاج میں شریک تھے.
مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک دوہزار سے زائد افراد فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں.
دوسری طرف روس اور ترکی نے امریکی صدر باراک اوباما کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے بشارالاسد سے فوری طور پرمنصب صدارت چھوڑنے کامطالبہ کیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…