شام میں حقوق انسانی تنظیم کے مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے جنوبی صوبے درعا میں پندرہ،ہومز میں چھ،دمشق اور دوما میں ایک ایک شہری کو گولیوں کا نشانہ بنایا، دیگر شہروں میں دس مظاہرین ہلاک ہوئے،یہ تمام لوگ نماز جمعہ کے بعد صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاج میں شریک تھے.
مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک دوہزار سے زائد افراد فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں.
دوسری طرف روس اور ترکی نے امریکی صدر باراک اوباما کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے بشارالاسد سے فوری طور پرمنصب صدارت چھوڑنے کامطالبہ کیا تھا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید