’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق مولانا عبدالحمید نے اپنے گزشتہ ہفتے کے خطبے میں صوبہ سیستان وبلوچستان کے صدرمقام زاہدان میں بسنے والے سنی عوام کے ایک اہم مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے زاہدانی سنیوں کو عیدین کی ادائیگی کے سلسلے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نامور سنی رہنما نے کہاسنی عوام کی بڑی تعداد سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر نماز پڑھنے پر مجبور ہے۔ عیدگاہ کی زمین حاصل کرنے کیلیے ایرانی صدراحمدی نژاد کو ان کے حالیہ دورہ سیستان وبلوچستان کے موقع پر اطلاع دی گئی جنہوں نے اس ایشو کو صوبائی گورنر کے ذمے سونپ دیا۔
انہوں نے مزیدکہا ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ زاہدان کی شیعہ برادری کو عیدین کی ادائیگی کے سلسلے میں کوئی پریشانی نہیں،اس سے قبل ان کی عیدگاہ ستائیس ہیکٹر (270,000مربع میٹر) کی تھی جس کی اب توسیع ہوئی ہے اور یہ عیدگاہ 400,000مربع میٹر کی ہے۔ لیکن سنی برادری کی عیدگاہ صرف چھ ہیکٹر(60,000مربع میٹر) کی ہے حالانکہ زاہدان میں اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے۔ اس لیے صوبائی حکام جلدازجلد اس مسئلے کا حل نکالیں۔
جامع مسجد مکی زاہدان کے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا یہ ہمارا قانونی اور جائز حق ہے۔ ہم خواتین نمازیوں کیلیے بھی عیدگاہ میں جگہ مختص کرنا چاہتے ہیں جس کیلیے شہر کے مضافات میں ہمیں زمین کی ضرورت ہے۔ امیدہے صوبائی حکام اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…