سابق صدر پر مظاہرین کو ہلاک کرنے اور اپنے دور حکومت میں بدعنوانی کے الزامات ہیں جس کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔
بدھ کو سابق صدر کوقاہرہ کی پولیس اکیڈیمی میں قائم ایک خصوصی عدالت میں پنجرہ نما ویل چیئر پر لایا گیا۔ حسنی مبارک کے بیٹے عالہ اور جمال، سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی اور چھ دیگر سابق اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
ادھر مصر میں سابق صدر کے حامیوں نے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے تین ہزار پولیس اور فوجی اہلکاروں کو قاہرہ کی سڑکوں پر تعینات کیا گیا۔ صدر مبارک کے خلاف مصر میں احتجاج کے دوران ساڑھے آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…