سابق صدر پر مظاہرین کو ہلاک کرنے اور اپنے دور حکومت میں بدعنوانی کے الزامات ہیں جس کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔
بدھ کو سابق صدر کوقاہرہ کی پولیس اکیڈیمی میں قائم ایک خصوصی عدالت میں پنجرہ نما ویل چیئر پر لایا گیا۔ حسنی مبارک کے بیٹے عالہ اور جمال، سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی اور چھ دیگر سابق اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
ادھر مصر میں سابق صدر کے حامیوں نے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے تین ہزار پولیس اور فوجی اہلکاروں کو قاہرہ کی سڑکوں پر تعینات کیا گیا۔ صدر مبارک کے خلاف مصر میں احتجاج کے دوران ساڑھے آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…