اطالوی پارلیمانی کمیشن نے مجوزہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت خواتین پر عوامی مقامات پر اپنا چہرہ نقاب میں چھپانے پر پابندی عائد ہوگی۔
قانون کے مطابق برقعہ ، نقاب یا ایسا کوئی بھی کپڑہ جو چہرہ چھپائے ممنوع ہوگا۔
کمیشن کے مطابق عوامی مقامات پر چہروں کو چھپانا سیکیورٹی نکتہ نظر سے خطرہ ہے، جو خواتین اس قانون کی خلاف ورزی کریں گی ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ خواتین کو زبردستی نقاب پہننے پر مجبور کرنے والے افراد کو 1 سال قید کی سزا دی جاسکے گی۔
اس قانون کو اطالوی وزیراعظم سلویو برلیسکیونی کی قدامت پسند جماعت کے رکن نے پیش کیا۔
اسلامی تنظیموں نے اس پابندی کو غیرمنصفانہ اور فرد کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اب یہ قانون جلد حتمی منظوری کے لئے پارلیمان کے ایوان زیریں میں پیش کیا جائے گا جہاں حکمران جماعت اسے منظور کرانے کے لئے تیار ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…