ذرائع کاکہنا ہے کہ علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان آج صبح شروع ہوا جس سے علاقے میں شدید خوف وحراس پھیل گیا۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے دو کی لاشیں سندھ گورنمنٹ جب کہ ایک شخص کی لاش جناح اسپتال لائی گئی ہے، اسپتال پہنچائی جانے والی لاشوں کی شناخت اکبر،ندیم اور شاہد کے ناموں سے ہوئی ہے۔
دوسری جانب وزیرداخلہ سندھ منظور وسان نے سندھ اسمبلی میں کہا ہے کہ کراچی میں امن قائم کرنے میں کچھ وقت لگےگا اور اس کے لیے تمام جماعتوں کا تعاون درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے وزیر داخلہ بننے کے بعد سے ٹارگٹ کلنگ میں کمی ہوئی ہے اور عہدہ سنبھالنے کے بعد سے77 افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ملیر میں امن قائم کرنے کے لیے پولیس کو روانہ کر دیا ہے۔
ملیر کی صورتحال پر سینیٹر بابر غوری نے کہا کہ ملیر میں ایم کیو ایم کے تین کارکنوں کو قتل کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ کیسی مفاہمتی پالیسی ہے جس میں ہمارے کارکنوں کو نشاننہ بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملیر میں دونوں سیاسی جماعتوں کے مسلح کارکنان کی جانب سے ایک دوسرے کے دفاتر پر قبضوں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ فائرنگ کی وجہ سے دفاتر کو جانے والے افراد اور دفاتر سے واپس گھروں میں جانے والے افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
دوسری جانب سے پولیس یا رینجرز کی جانب سے کسی قسم کا کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے پولیس اور رینجر کھوکھرا پار سے میلوں دور لیاقت مارکیٹ کے علاقے میں موجود ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار