جان محمد خان کا قتل صدر حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی کے قتل کے چند روز بعد ہوا ہے۔جان محمد خان احمد ولی کرزئی کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔
کابل پولیس کا کہنا ہے کہ جان محمد خان کے علاوہ ایک اور افغان قانون ساز ہاشم اتنوال بھی اس حملے میں مارے گئے ہیں۔
صدر کرزئی کے مشیر کا قتل اسی روز ہوا جب نیٹو افواج نے افغانستان کے بعض علاقوں کی ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنی شروع کی ہیں۔ نیٹو افواج نے اتوار کے روز صوبے بامیان کو مقامی سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا۔
کابل پولیس کے سربراہ نے جان محمدخان کی ہلاکت کے کچھ دیر بعد کہا تھا کہ کابل کے علاقے کرتی چار میں سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا کہ دو حملہ آوروں نے مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے جان محمد خان کی رہائش پر حملہ کیا۔
کابل میں بی بی سی کے صحافی بلال سروری نے بتایا ہے کہ جان محمد خان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھی تھےلیکن وہ ایک متنازعہ شخصیت تھے اور ان پر مقامی ملیشیا کی مدد کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد ہوتے رہتے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان