ذرائع کے مطابق پاکستانی و امریکی خفیہ اداروں کو الیاس کشمیری کی ہلاکت کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی اداروں نے گیلانی انتظامیہ کو اس بات سے آگاہ کیا کہ الیاس سے متعلق خبریں جھوٹ پر مبنی تھیں اور جس باغ میں اس کارروائی کے بعد 9 سے زائد میتوں کی وڈیو دکھائی گئی تھی وہ دشمنوں کو سراسر دھوکا دینے کی ایک کامیاب کوشش تھی،یہی وجہ ہے کہ کالعدم حرکتہ الجہاد الاسلامی کی جانب سے مذکورہ سربراہ کی نعش کی کوئی تصویر میڈیا پر جاری نہیں کی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے اس طرح حکمت عملی جنگی اصول ہے اس سے قبل 8فروری2010ء کو طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کے مارے جانے کی بھی تصدیق کی گئی تھی تاہم 6 جنوری 2011ءکو اچانک منظر عام پر آئے اور خوست پر حملہ میں براہ راست شامل رہے۔
ڈان نیوز کو قبائلی علاقوں کے مکینوں سے ملنے والی اطلاعات میں اس بات کا بھی پتا چلا ہے کہ الیاس کشمیری پاک افغان سرحدی علاقے میں پوری طرح متحرک اور القاعدہ تھری ون تھری بریگیڈ کی کمانڈ کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستانی وزیرداخلہ رحمن ملک نے الیاس کشمیری کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم ان کا کہنا تھا ابتدائی انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد واضح ثبوت کے لیے کائونٹر چیک کیا جارہا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…