عینی شاہدین اور شامی انقلابیوں کی قائم کردہ “کوآرڈینیشن کمیٹی” کے ارکان نے العربیہ ٹی وی کے نامہ نگاروں کو بتایا کہ فوج میں پھوٹ کا واقعہ دمشق میں “الکسوہ” کالونی میں تعینات فوجی بریگیڈ میں پیش آیا ہے۔ فوجیوں کی علاحدگی کے بعد دونوں طرف سے ایک دوسرے پر فائرنگ بھی کی گئی ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں مل سکی۔
ادھر العربیہ ٹی وی کو موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز صدر بشار الاسد کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران فوج کی فائرنگ سے کم سے کم 14 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی نے فوج کے ہاتھوں جمعہ کو ہونے والی ہلاکتوں کی بھی تردید کی ہے۔ مرنے والے سات افراد کا تعلق “الکسوہ” کالونی ہی سے بتایا گیا جہاں بعد میں فوج میں پھوٹ پڑ گئی تھی۔
جسر الشغور میں فوج کی نقل وحرکت
ادھر ترکی کی سرحد سے ملحقہ علاقے جسر الشغور میں شامی فوج کی بڑی تعداد اب بھی موجود ہے اور اس نے نقل وحرکت تیز کر دی ہے۔ سرحد کی دوسری جانب ترک فوج بھی الرٹ ہے، تاہم دونوں طرف سے فائرنگ یا کسی شخص کی ہلاکت کی اطلاعات نہیں آئیں۔
“اے ایف پی” نے ایک شامی فوجی عہدیدار کےحوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شہریوں کی ترکی کی سرحد عبور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کل جمعہ کو بھی کئی افراد نے سرحد پار کر کے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم اس موقع پر شامی فوج نے نقل مکانی کرنے والوں کو آگے جانے سے روک دیا۔
خیال رہے کہ شام میں گزشتہ تین ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران انسانی حقوق کے اعدادوشمار کے مطابق کم بیش 1300 افراد ہلاک 10 ہزار گرفتار اور اتنی بڑی تعداد ترکی اور لبنان میں نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید