Categories: پاکستان

خروٹ آباد: سات دن میں رپورٹ دیں

کوئٹہ(بی بی سی) بلوچستان ہائی کورٹ نے سانحہ خروٹ آباد کے ایک اہم گواہ اور بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے پولیس سرجن پر دوروز قبل پولیس کی جانب سے ہونے والے تشدد کے خلاف آئنیی درخواست کی سماعت کے دوران چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ سات دن کے اندر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بدھ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پولیس سرجن ڈاکٹر سید باقر شاہ پر ہونے والے تشدد سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی۔
اس دوران پولیس حکام کی جانب سے عدالت کو بتایاگیا کہ اس سلسلے میں تھانہ سٹی اور گوالمنڈی کے ایس ایچ اوز کو فوری طور پر ڈی آئی جی آپریشن کے حکم پر معطل کردیا گیا ہے۔
جس پر عدالت نے مذکورہ ایس ایچ اوز کو وردیوں میں ملبوس دیکھ کر سخت برہمی کا اظہا کیا اور کہا کہ مذکورہ پولیس افسران کس قانون کے تحت اب تک وردیوں میں ملبوس ہیں۔ حالانکہ پولیس قوانین کے مطابق کوئی بھی معطل سپاہی یا افسر وردی پہن سکتا ہے اورنہ ہی اسلحہ رکھ سکتا ہے۔
جس پولیس اہلکار کے خلاف آپ کوشکایت ملی تھی اسے تو آپ گرفتار نہیں کر سکے اور اس کی جگہ ڈاکٹرز کوگرفتار کیا۔
جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ ڈاکٹر شراب کے نشے میں وہا ں دھت تھا جہاں سے ہمیں ایک اے ایس آئی ٹریفک پولیس اہلکار عمران کےغل غپاڑہ کرنے کی شکایت ملی تھی۔ اس لیے مذکورہ ڈاکٹر کو تھانے لیے جایاگیا۔ جس کا سانحہ خروٹ آباد والے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض پولیس حکام کی بے وقوفی تھی۔
جس پر چیف جسٹس نے غصے سے ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی اور دیگر پولیس حکام سے کہا کہ وہ اپنے جرم کو بے وقوفی کہہ رہے ہیں۔اس سے ہمیں پولیس حکام کی اہلیت پر بھی شک ہوگیا ہے۔ جرم کرنے والے پولیس کوسزا کی بجائے الٹا ان کا دفاع کیا جا رہا ہے۔
سانحہ خروٹ آباد سے متعلق ٹربیونل ہماری ہدایت پر نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے تشکیل دیاگیا ہے۔
سماعت کے دوران پولیس حکام نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر سید باقر شاہ پر تشدد نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے تھانے میں بھی سر اور ہاتھ میں درد کی شکایت کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے پولیس کو مخاطب کر کے کہا کہ ہاں مذکورہ ڈاکٹر کی آپ کے ساتھ پرانی دشمنی ہے اس لیے انہوں نے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا اور ہسپتال میں داخل ہے۔
عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ ڈاکٹر پر تشدد کے واقعہ پر چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جوایس پی انویسٹی گیشن خالد منظور اور ایس پی عبداللہ جان کی سربراہی میں کام کرے گی۔
اس موقع پر عدالت کے پوچھنے پر ایس پی عبداللہ جان نے بتایاکہ سات دن کے اندر وہ اس سلسلے میں تحقیقاتی رپورٹ مکمل کریں گے۔اس کے بعد عدالت نے تیئس جون تک سماعت ملتوی کردی۔

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago