جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل منصورہ کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے سردار اکبر بگٹی کے صاحبزادے اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب طلال بگٹی کے ہمراہ ڈیرہ بگٹی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی بلوچستان عبدالمتین اخونزادہ اور شاہ زین بگٹی بھی موجود تھے ۔
سیدمنور حسن نے کہاکہ حکمران رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے عوام کو اعتماد میں لینے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے حالات سے چشم پوشی کر رہے ہیں جس سے لوگوں کے اندر وفاق کے خلاف نفرت میں اضافہ ہورہاہے ۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ وہاں کے عوام کے اندر پایا جانے والا احساس محرومی ہے ۔ جنرل مشرف نے فوج کے ذریعے لوگوں کا ماورائے آئین قتل عام کر کے حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جس سے صوبے کے عوام کے اندر شدید نفرت پیدا ہوئی۔ جب تک مشرف کے خلاف اس قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا جاتا اور بلوچستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کاحق تسلیم نہیں کیا جاتا ، بلوچوں کو وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا ۔
انہوں نے کہاکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں صوبے کو پسماندہ اور محروم رکھا گیا اور مرکزی و صوبائی ملازمتوں کے کوٹے میں بھی وہاں کے عوام کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ان تمام مسائل کے حل کے لیے وہاں کے نمائندوں پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل نہیں دیا جاتا ، حالات میں بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ۔
اس موقع پر طلال بگٹی نے کہاکہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں کسی جگہ مرکز سے علیحدگی کی کوئی تحریک موجود نہیں لیکن ہم عزت و وقار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ ہمارے نوجوانوں کو پکڑ پکڑ کر غائب کیا جارہاہے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں لیکن فوج ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے جس سے لوگوں کے اندر شدید عدم تحفظ پایا جاتاہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہم جماعت اسلامی کی قیادت کے شکر گزار ہیں جس نے بلوچ عوام کے ساتھ ہمیشہ اظہار یکجہتی کیا اور ہمارے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید