Categories: پاکستان

مزار پر حملے میں تینتالیس ہلاک، ’ایک حملہ آور گرفتار‘

اسلام آباد(بى بى سى) حضرت سخی سرور کے مزار پر اتوار کی شام تقریباً ساڑھے چار بجے دوخود کش حملے ہوئے جن میں تینتالیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ حملے کے وقت سالانہ عرس میں شرکت کے لیے ہزاروں زائرین دربار پر موجود تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پہلے ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دربارکے داخلی دروزے کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔ اس مقام پر پانی کی سبیل لگی ہوئی تھی۔ یہی دھماکہ زیادہ جان لیوا ثابت ہوا۔ تقریباً پچیس منٹ بعد ایک اور خود کش حملہ آور نے مزار کے عقب میں واقع ندی میں زائرین کے لیے سجائے گئے بازار میں خود کو اڑانے کی کوشش کی۔یہاں پر زائرین کے لیے بازار بنایا گیا تھا۔
ہمارے نامہ نگار غظنفر عباس نے بتایا کہ پولیس حکام کے مطابق دوسرے حملہ آور کی کوشش ناکام رہی، اس نے زخمی حالت میں بھاگنے کی کوشش کی لیکن گرفتار کر لیا گیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کسی دربار کو خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے اس سے قبل لاہور کے داتا دربار اور پاکپتن میں فریدالدین گنج شکر کے مزار پر بھی حملے ہوئے۔ ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ کے مطابق سخی سرور دربار کی سکیورٹی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی۔
گزشتہ روز کے خود کش حملوں سے دربار کے مرکزی حصے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، داخلی دروازے کے قریب فرش پر چھروں کے نشانات بن گئے۔ حکام کے مطابق مزار پر رش کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔
دھماکہ کے فوراً بعد ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو، پولیس اور بی ایم پی کے اہلکار مزار پر پہنچ گئے۔ مرنے والوں کی زیادہ تر لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کیا گیا۔
دھماکے کے بعد رات کو پورے شہر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی اور مزار کی عقبی ندی میں بارڈر ملٹری پولیس کے اہلکاروں نے اس جگہ پر حفاظتی باڑ لگائی ہوئی تھی جہاں انھی کے مطابق دوسرے خود کُش حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بارڈر ملٹری پولیس کے مقامی تھانہ کے محرر فیاض لغاری نے وہ خود کش جیکٹ اور ہینڈ گرنیڈ بھی دکھایا جسے زخمی ہونے والے حملہ آورسے برآمد کیا گیا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق خود کش دھماکہ مزار کے داخلی دروازے سے چند گز دور اس مقام پر ہوا جہاں پانی کی سبیل لگی ہوئی تھی اور دھماکے کے وقت سینکڑوں لوگ وہاں موجود تھے۔
سید احمد سلطان المعروف حضرت سخی سرور کا سات سو ستانواں عرس گزشتہ ماہ دس مارچ کو شروع ہوا تھا۔ یہ تقریبات دس اپریل تک جاری رہتی ہیں۔ پاکستان کے جنوبی ضلع ڈیرہ غازی خان سے تقریباً چالیس کلومیٹر جنوب مغرب میں کوہ سلیمان کے دامن میں موجود مزار پر یوں تو سال بھر ہر جمعرات کو زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر موسم بہار کی چار جمعراتوں کو یہ میلہ اپنے عروج پر ہوتاہے۔
اس میلے میں نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا سے بھی زائرین مزار پر حاضری دین آتے ہیں۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago