Categories: پاکستان

متحدہ کا اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان

اسلام آباد(بی بی سی) پاکستانی پارلیمان میں حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی ہے کیونکہ اس فیصلے کی وجہ سے حکومتی اتحاد بظاہر اپنی اکثریت کھو بیٹا ہے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ اتوار کو رابطہ کمیٹی اور اراکینِ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا۔ ایم کیو ایم نے اس سے قبل وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔
اجلاس کے بعد فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنماؤں فیصل سبزواری اور حیدر عباس رضوی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی ہے اور اب سال کے آغاز میں عوام پر پیٹرول بم گرا دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں پہلے ایم کیو ایم کے وفاقی حکومت کی فیصلہ سازی کے عمل سے علیحدگی اختیار کی تھی وہیں اب وہ حزبِ اختلاف کا حصہ بنے گی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی حکومت کے احسن اقدامات کی حمایت کرتی رہے گی تاہم وہ آر جی ایس ٹی جیسے اقدامات کی حامی نہیں بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن نشستیں الاٹ کروانے کے سلسلے میں درخواست دے دی جائے گی۔
حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے مطالبے کے حوالے سے سوال پر حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ذرائع ابلاغ میں تجزیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے لیکن وہ فی الحال کسی مفروضے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور مفاہمت میں بہت فرق ہے تاہم فیصل سبزواری نے کہا کہ اگر ملکی صورتحال مزید ابتر ہوئی تو ان کے پاس تمام آپشن کھلے ہیں۔
ادھر اتوار کی شام لاہور میں ایک تقریب کے دوران ایم کیو ایم کے فیصلے پر پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی اور سب اتحادی چلے بھی جائیں تب بھی حکومت رہے گی۔
ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف سسٹم اور جمہوریت کے حق میں ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ وہ کسی سیاسی بلیک میلنگ کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔
ایم کیو ایم کے اپوزیشن میں بیٹھنے کے اعلان کے بعد بظاہر پیپلز پارٹی کی حکومت قومی اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھی ہے۔
ایوان میں اکثریت کے لیے حکومت کو ایک سو تہتر ارکان کی حمایت درکار ہے اور اب ایوان میں حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے ارکان کی تعداد ایک سو اٹھاون ہے جن میں پیپلز پارٹی کے ایک سو ستائیس، اے این پی کے تیرہ، مسلم لیگ فنکشنل کے پانچ، فاٹا کے گیارہ جبکہ بی این پی اور این پی پی کے ایک ایک ارکان شامل ہیں۔
ایم کیو ایم کے اپوزیشن میں بیٹھنے کے اعلان کے بعد اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد ایک سو تہتر تک پہنچ جائے گی جس میں مسلم لیگ نواز کے اکیانوے، مسلم لیگ ق کے انچاس، ایم کیو ایم کے پچیس اور جمیعت علمائے اسلام کے آٹھ ارکان شامل ہیں۔
modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

3 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago