Categories: مشرق وسطی

فلسطینی بچوں کو کار تلے کچلنے والے یہودی سے اسرائیلی پولیس کی تفتیش

مقبوضہ القدس (ایجنسیاں) اسرائیلی پولیس نے ایک یہودی آباد کی کار کی ٹکرسے دوفلسطینی بچوں کے زخمی ہونے کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ واقعہ دو روز قبل مقبوضہ بیت المقدس میں سلوان کے مقام پر اس وقت پیش آیا تھا جب ایک کار ڈرائیور اسرائیلی شہری نے سڑک پر کھڑے دو نقاب پوش بچوں میں سے ایک کو ٹکر مار دی تھی،جس سے وہ اپنے ساتھ کھڑےدوسرے بچے پر گر پڑا اور دونوں زخمی ہو گئے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی “اے ایف پی” کے مطابق تل ابیب پولیس کےترجمان بن روبی نے بتایا ہے کہ حُکام نے یہودی کار سوار کی ٹکر سے دو بچوں کے زخمی ہونے کی کلوز سرکٹ کیمرے سے ویڈیو حاصل کر کے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔ ملزم کا تعلق یہودی آباد کاری میں سرگرام تنظیم” العاد” سے ہے اور اس کی ڈیوڈ بیری کے نام سے شناخت کی گئی ہے”۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ ملزم سے درست سمت میں تحقیق کر رہےہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ کار کی ٹکر سے زخمی 11 سالہ عمران منصور اور 10 سالہ ایاد غیث القدس میں کے ایک سرکاری اسپتال میں زیرعلاج ہیں اور دنوںتیزی سے روبہ صحت ہیں۔ عمران منصور کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں اور ایاد غیاث معمولی زخمی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی ریڈیو نےایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پولیس نے ڈیوڈ بیری کو معمولی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا ہے۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق مسٹر بیری یہودی تنظیم”العاد” کا ڈائریکٹر جنرل ہے۔انہوں نے فلسطینی لڑکوں کو دانستہ گاڑی کی ٹکر سے زخمی نہیں کیا بلکہ وہ راستے پر جا رہے کہ ان کی کار پر پھتراٶ کیا گیا۔جس پر انہوں نے کار بھگا دی اور فلسطینی بچے اس کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔تنظیم نے واقعے پر افسوس کا بھی اظہار کیا ہے۔
ادھر القدس میں انسانی حقوق کے سرگرم رہ نما اور سلوان میں کمیٹی برائے دفاع اراضی کے رُکن فخری ابودیاب نے یہودی آباد کارکےہاتھوں بچوں کے زخمی ہونے کے واقعے کی تحقیقات کر کے ملزم کوسخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ یہودی آباد کار کی طرف سے فلسطینی بچوں پر گاڑی چڑھادینے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے کسی ایک شخص کو نمونہ عبرت بنایا جائے تو یہ سلسلہ رک سکتا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے بھی یہودی کار سوار کی کار کی ٹکرسے بچوں کے زخمی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کو تنقید کانشانہ بنایا ہے۔ واقعے کے ردعمل میں فلسطینی صدر محمود عباس کے سیاسی مشیر نمرحماد نے کہا کہ” دانستہ طور پر یہودی آباد کا نہتے فلسطینی بچوں پر گاڑی چڑھا دینا ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ اس واقعے سے ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل میں جنگل کا قانون ہے اور کوئی کسی مجرم کو پوچھنے والا نہیں”۔
modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

9 minutes ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago