صدر اوباما کا مقبوضہ فلسطین میں یہودی آباد کاری روکنے پر زور

نیویارک(ایجنسیاں) امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری کا سلسلہ روک دے تاکہ خطے میں قیام امن کی کوششیں اور آزاد فلسطینی ریاست کی راہ ہموار کی جاسکے۔

فرانس کی خبر رساں ایجنسی “اے ایف پی” کے مطابق امریکی صدرنے جنرل اسمبلی کے نیویارک میں منعقدہ سالانہ عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فلسطین اور اسرائیل کی صورت میں دو الگ الگ ریاستوں کے قیام تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ دونوں ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ امن و بقائے باہمی کے نظریے کے مطابق پھل پھول سکیں۔
ان کا کہناتھا کہ فریقین میں جاری راست مذاکرات کی فضاء کو سازگار بنانے کے لیے یہودی آبادکاری پرپابندی ضروری ہے۔ اس حوالے سے امریکا کا موقف واضح ہے اور ہم اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ اسرائیل کویہودی آباد کاری پرعائد پابندی میں توسیع کرنا چاہیے۔

فلسطینی صدر کا خیرمقدم

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق اسرائیل سے یہودی آباد کاری روکنے سے متعلق مطالبے پر فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے ریمارکس کا خیر مقدم کیاہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے ابو مازن نے کہا کہ “وہ امریکی صدر کی طرف سے اسرائیل سے یہودی آباد کاری روکنے اور آئندہ سال فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکا اور عالمی برداری کی کوششوں سے آئندہ ایک سال کے اندر فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک رکن کا بھی اضافہ ہو گا۔
مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے امریکی صدر براک اوباما کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکا کی نگرانی میں مشرق وسطیٰ امن مذاکرات اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے۔ بہ قول محمود عباس کے”فلسطینی اسرائیل کے ساتھ پرامن زندگی بسر کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جلد ازجلد کوئی امن سمجھوتہ طے پاجائے”۔

مذاکرات کے تسلسل پر زور

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “یہ فریقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی بات چیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو خود ہی دور کریں”۔انہوں نے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

3 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago