فلسطینی صدر کا خیرمقدم
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق اسرائیل سے یہودی آباد کاری روکنے سے متعلق مطالبے پر فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے ریمارکس کا خیر مقدم کیاہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے ابو مازن نے کہا کہ “وہ امریکی صدر کی طرف سے اسرائیل سے یہودی آباد کاری روکنے اور آئندہ سال فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکا اور عالمی برداری کی کوششوں سے آئندہ ایک سال کے اندر فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک رکن کا بھی اضافہ ہو گا۔
مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے امریکی صدر براک اوباما کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکا کی نگرانی میں مشرق وسطیٰ امن مذاکرات اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے۔ بہ قول محمود عباس کے”فلسطینی اسرائیل کے ساتھ پرامن زندگی بسر کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جلد ازجلد کوئی امن سمجھوتہ طے پاجائے”۔
مذاکرات کے تسلسل پر زور
ادھر امریکی صدر براک اوباما نے فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “یہ فریقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی بات چیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو خود ہی دور کریں”۔انہوں نے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید