عالمی مذمت
امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک چرچ نےگیارہ ستمبرکو مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو نذر آتش کرنےکا جو متنازعہ اعلان کیا ہے، اس پر امریکا سمیت مختلف حلقوں اور ممالک کی جانب سے شدید رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے ریاست فلوریڈا کے ایک چھوٹے چرچ کی طرف سے 11 ستمبر کے موقع پر احتجاجاََ قرآن کو نذرآتش کرنے کے منصوبے کو ایک” گستاخانہ اور باعث شرم فعل “ قرار دیا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے منگل کی شام واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ میں ایک اِفطار ڈنر کے موقع پر کیا۔
اس منصوبے کے خلاف افغانستان میں امریکہ مخالف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تقریباً ایک ہزار انڈونیشی مسلمانوں نے جکارتہ میں امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر فلوریڈا کے اس چرچ نے اپنے منصوبے کو عملی شکل دی تو اس کا جواب جہاد کی صورت میں دیا جائےگا۔ اس مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اور مسیحی رہنماؤں کو اس اشتعال انگیز منصوبے کو رکوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اسی حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مغربی ممالک کو آزادی اظہار کے نام پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔ مصر کی جامعہ الازہر سمیت کئی سرکردہ مسلم اداروں اور گروپوں نے بھی قرآن کے نسخے نذر آتش کرنے کے اس متنازعہ منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار