Categories: افغانستان

طالبان کی کارروائیاں تیز، چار دنوں میں 23 امریکی فوجی ہلاک

کابل (خبر ایجنسیاں ) مشرقی افغانستان میں سڑک کنارے بم دھماکے میں5 امریکی فوجیوں سمیت 6اتحادی فوجی ہلاک ہوگئے۔ الجزیره کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ، 4 روز میں مختلف واقعات کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد23 ہو گئی.

تفصیلات کے مطابق منگل کو ایساف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی اور جنوبی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے اور عسکریت پسندوں کے حملوں میں 6اتحادی فوجی ہلاک ہوگئے جن میں سے 5امریکی ہیں۔امریکی فوجیوں کو مشرقی افغانستان میں سڑک کنارے نصب بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔گزشتہ 3 دنوں میں مختلف واقعات میں اب تک 19 امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ناٹو نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ اگست امریکی فوج کیلئے ہلاکت خیز مہینہ رہا جس میں 53 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ۔
ادھر دارالحکومت کابل میں کار سوار مسلح افراد کی بس پر فائرنگ سے سپریم کورٹ کے 3ملازمین ہلاک ہوگئے۔ صوبہ وردگ کے ضلع میدان شہر میں طالبان کی جانب سے ایساف کی فوجی چیک پوسٹ پر داغے گئے مارٹر گولے نواحی گا ؤں آدم خیل میں گرنے سے 2بچے جاں بحق گئے۔
افغانستان میں ناٹو فورسز کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میںکہا کہ افغانستان سے اتحادی فوج کاانخلاءمرحلہ وار ہوگا۔
اتحادی فوج افغانستان کے چھوٹے علاقوں جہاں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہے وہاں کی ذمہ داری افغان فورسز کے حوالے کرنے کے بجائے اس پورے صوبے کا کنٹرول ایک ہی وقت میں افغان فورسز کے حوالے کرے گی۔ افغان صدر حامد کرزئی کیحالیہ بیان جس میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف اصل جنگ افغان دیہات میں نہیں ہے بلکہ سرحد پار پاکستان میں ہے پرڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا تھا کہ وہ صدر کرزئی کے بیان پر وضاحت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم ان کا نہیں خیال کہ یہ بیان انسداد دہشت گردی حکمت عملی میں افغانستان کی سپورٹ میں کمی کی عکاسی کرتا ہے ۔
ادھر ڈنمارک کے ٹی وی چینل سے انٹرویو میں ناٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈریو پوسٹرا ؤس راسموس نے کہا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں شدت لائی جائے گی ۔ مکمل انخلاءہوا تو طالبان واپس آ جائیں گے۔ افغان جنگ اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں ہے ۔ طالبان کے
مضبوط گڑھ میں کارروائی کیلئے مزید فوجی بھیجے جا رہے ہیں جس سے لڑائی اور جانی نقصان میں اضافہ ہو گا ۔ لڑائی میں شدت لانا ناٹو فورسز کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ طالبان کی عسکری کامیابی کا کوئی امکان نہیں تاہم افغان تنازع کا حل صرف فوجی طریقے سے نہیں نکلے گا ۔
modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago