سخت مقابلہ
جدہ کے سابق مئیر ڈاکٹرمحمد سعید فارسی نے بتایا کہ جمع کرائے گئے 306فن پاروں میں سے نصف معیاری نہیں ہیں اور ڈاکٹر البار کے مطابق ان میں سے 152کومقابلے سے نکال دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر فارسی نے بتایا کہ جن ممالک کے آرٹسٹوں نے اپنے فن پارے جمع کرائے ہیں،ان میں سعودی عرب،سوڈان،یمن،قطر،عراق،مراکش،الجزائر،ترکی،ایران،لبنان،اردن،فلسطین،شام،موریتانیہ،صومالیہ،پاکستان،ملائشیا،چین،بھارت،اٹلی اورامریکا شامل ہیں۔
منصفین کا پینل نامورآرٹسٹوں،ڈیزائنروں،فلسفے اور فائن آرٹ کے ماہرین پرمشتمل ہے اور ان کا تعلق مصر،مراکش،ملائشیا اور کوٹ ڈی آئیوری سے ہے۔
مقابلے کے فاتحین کے ناموں کا اعلان 27ستمبر کوایک خصوصی تقریب میں کیا جائے گا اور ان میں تین لاکھ ڈالرز کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔
مکہ سب سے ترقی یافتہ شہر ہونا چاہیے
مکہ کے گورنر شہزادہ خالدالفیصل نے بدھ کی رات جدہ میں منعقدہ ایک تقریب میں اس مقابلے کا افتتاح کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ”یہ سعودی عرب کی ذمے داری ہے کہ وہ مکہ معظمہ کو خوبصورتی اور ترقی کا ایک نمونہ بنائے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت نے مکہ معظمہ کو دنیا کے شہروں میں سب سے صاف ترین اور ترقی یافتہ شہر بنانے کا عزم کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مسجدالحرام اور مکہ کو عازمین حج کے لیے محفوط ترین مقام بنانے کے ذمے دار ہیں۔
شہزادہ خالدالفیصل آرٹ کے اس مقابلے کے اسپانسر ہیں۔انہوں نے نجی کمپنیوں اور کاروباری افراد سے مکہ کو خوبصورت بنانے کے لیے اس پہلے بین الاقوامی مقابلے میں تعاون کے لیے کہا ہے۔
سعودی عرب نے یکم رمضان المبارک کو مکہ معظمہ میں تعمیر کیے گئے دنیا کے سب سے بڑے گھنٹہ گھرکا بھی افتتاح کیا ہے۔اس کی تعمیر پرساٹھ کروڑ ڈالرز لاگت آئی ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید