ڈاکٹر ذاکر نائیک کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی

لندن (ايجنسياں) برطانوی وزرات داخلہ نے بھارت سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مسلمان مبلغ ذاکر نائیک کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے اور کہا ہے کہ ذاکر نائیک اپنے بیانات میں کہ چکے ہیں کہ ہر مسلمان کو دہشت گرد ہونا چاہیے۔

ایک برطانوی اخبار کے مطابق خاتون بر طانوی وزیر داخلہ تھریسا مے نے کہا ہے کہ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بہت سے اخباری بیانات پڑھے ہیں اور ان کے نامناسب رویے کی وجہ سے انہیں برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ برطانیہ میں داخلہ کی ایک سہولت ہے حق نہیں ہے اور ایسے لوگوں کو برطانیہ میں آنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جو عوامی خواہشات کے برعکس خیالات رکھتے ہیں۔
اخبار نے برطانوی وزارت داخلہ کیذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ2006میں ایک ویب سائٹ پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے انہیں برطانیہ داخل نہیں ہونے دیا جائیگا۔ اس ویب پر ایک سوال کے جواب میں44سالہ ذاکر نائیک نے کہا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کو نہیں جانتے،نہ ہی کبھی اسامہ سے رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی یہ جانتا ہو ں کہ وہ کیا کر رہا ہے لیکن اگر وہ اسلام دشمنوں کے خلاف لڑرہا ہے، اگر وہ دہشت گروں کے لیے دہشت ہے اور اگر وہ سب سے بڑے دہشت گرد امریکا کے لیے خوف کا باعث ہے تو میں اس کی حمایت میں ہوں اور اس طرح ہر مسلمان کو دہشت گرد ہونا چاہیے۔
modiryat urdu

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

1 day ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

1 day ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

3 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

3 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago