ووٹوں کی دوبارہ گنتی ختم
وزیر اعظم نوری المالکی کے مطالبے پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں ابھی تک دھاندلی کے واضح ثبوت نہیں ملے سکے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان قاسم ال ابودی کے مطابق بعض حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد سامنے آنے والے اعداد وشمار کو مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ حتمی نتائج پیر کو متوقع ہیں۔ ان کے بقول دارالحکومت بغداد میں گیارہ ہزار سے زائد بیلٹ باکسز‘ میں ڈالے گئے ووٹ دوبارہ گن لئے گئے تاہم نتائج میں کوئی دھاندلی ثابت نہیں ہوئی۔ بغداد کے اڑسٹھ حلقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا آغاز تین مئی کو کیا گیا تھا۔ عراقی پارلیمان مجموعی طور پر تین سو پچیس نشستوں پر مشتمل ہے۔
انتخابات کے عبوری سرکاری نتائج کے مطابق سیکولر نظریات کے حامل ایاد علاوی کے حامی اتحاد ’العراقیہ‘ کو شیعہ عقیدے کے پیروکار نوری المالکی کے حامی “اسٹیٹ لاء الائنس”پر معمولی برتری حاصل ہے۔ صوبائی سطح پر البتہ مالکی کی برتری برقرار ہے۔ مالکی کو عراق کے 18 میں سے سات صوبوں میں برتری حاصل ہے۔
عراقی پارلیمان میں نشستیں صوبائی سطح پر انتخابی نتائج کے مطابق مختص کی جاتی ہیں۔ علاوی کے اتحاد کو 91 اور نوری مالکی کے اتحاد کو 89 نشستیں جبکہ شیعہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 70 نشتیں ملی ہیں۔
نوری المالکی کی جانب سے روں ماہ ایسے دعوے کئے گئے تھے کہ ان کا شیعہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے لئے اتحاد طے پاگیا ہے تاہم اعداد وشمار کے مطابق دونوں کی مجموعی نشستوں کی تعداد بھی حکومت بنانے کے ناکافی ہے اور اکثریتی جماعت العراقیہ کو حکومت سے باہر کرنے کے منفی اثرات کا بھی خدشہ ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان