مولانا عبدالحمید:

جنگ روکنے کا بہترین، تیزترین اور کم خرچ طریقہ عوامی مطالبات کو تسلیم کرنا ہے

جنگ روکنے کا بہترین، تیزترین اور کم خرچ طریقہ عوامی مطالبات کو تسلیم کرنا ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 27 مارچ 2026 کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع کے دوران خیرخواہوں اور ہمدردوں کی بات نہ سنے جانے پر تنقید کی اور عوامی رضامندی حاصل نہ کرنے کو ایران کے خلاف جنگ اور ملک کے دیگر مسائل کی وجہ قرار دیا۔
انہوں نے تاکید کی کہ قوم کے مطالبات ماننا جنگ روکنے اور مسائل کے حل کا بہترین، تیزترین اور سب سے سستا راستہ ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں خیرخواہانہ باتیں نہیں سنی جاتیں
کوئی بھی عقل مند انسان جنگ، قتل و غارت اور اپنے ملک کے وسائل کی تباہی پر راضی نہیں ہوتا
زاہدان کے اہل سنت خطیب کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے فرمایا کہ کچھ لوگوں نے حال ہی میں ملک میں ہونے والی جنگ پر میری خاموشی سے یہ مطلب نکالا کہ شاید میں اس جنگ پر راضی ہوں، جبکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کوئی بھی عقل مند انسان جنگ، انسانوں کے قتل، تخریب کاری اور اپنے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر خوش نہیں ہوتا۔ جنگ نقصانات لاتی ہے اور ممالک کو پیچھے لے جاتی ہے۔ میں نے جنگ شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل حدیث کے مفہوم کی روشنی میں کہا تھا کہ حکومت اور عوام میں سے کوئی بھی جنگ کی تمنا نہ کرے۔ بارہ روزہ جنگ میں موافق اور مخالف تمام لوگ میدان میں آئے اور حمایت کی۔ میں اس وقت حج کے سفر پر تھا اور وہاں سے مذمتی پیغام بھیجا، لیکن جنوری کے افسوسناک واقعات نے عوام کو بہت ناراض کیا۔
انہوں نے مزید کہا: میری خاموشی کی وجہ یہ تھی کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں خیرخواہانہ باتوں پر کان نہیں دھرا جاتا۔ میں اس بات پر ناراض اور ناخوش تھا اور ہوں کہ ہمدردوں اور خیرخواہوں کی تجاویز اور تنقید پر توجہ نہیں دی گئی۔

اگر خیر خواہوں اور ہمدردوں کی بات پر توجہ دی جاتی تو جنوری کے تلخ واقعات اور یہ جنگ کبھی نہ ہوتی
مولانا عبدالحمید نے تاکید کی کہ میرا یہ پختہ یقین ہے کہ اگر ہمدردوں کی خیر خواہانہ باتوں پر توجہ دی جاتی اور عوامی رضامندی حاصل کی جاتی تو نہ جنوری کے تلخ واقعات ہوتے اور نہ یہ جنگ کبھی چھڑتی۔ میں جو باتیں اور تنقید پیش کرتا ہوں وہ ہمدردی پر مبنی ہوتی ہیں اور میں نے بارہا کہا ہے کہ اگر کسی موضوع پر میری بات غلط ہو تو مجھے قائل کریں، مجھ میں الحمدللہ یہ جرات اور بہادری ہے کہ اگر مجھ سے غلطی ہو تو اس کی اصلاح کر لوں۔
انہوں نے مزید کہا: میں نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کرنے والوں پر تشدد نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی بات سنیں اور عوام کے مفادات و مطالبات کے مطابق تبدیلیاں لائیں۔ میں اپنے لیے کوئی عہدہ یا منصب نہیں چاہتا بلکہ میں عوام کے حقوق کی بات کرتا ہوں اور اسے اپنی ذمہ داری اور فرض سمجھتا ہوں۔

کسی بھی ملک اور حکومت کی سب سے بڑی طاقت اسلحہ نہیں بلکہ اس کی قوم ہے
زاہدان کے خطیبِ جمعہ نے واضح کیا: میں نے ہمیشہ جنگ روکنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ سے بچنے کا بہترین طریقہ عوامی مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ اگر آپ عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے تو کوئی بھی طاقت ہمارے ملک پر میلی آنکھ ڈالنے کی ہمت نہیں کر سکے گی، لیکن اگر آپ صرف اسلحے اور جنگی ساز و سامان پر بھروسہ کریں گے تو ممکن ہے کہ دوسروں کے پاس آپ سے زیادہ جدید اسلحہ ہو۔
انہوں نے تاکید کی کہ اسلحہ اور جنگی سامان سب سے بڑی طاقت نہیں ہے، بلکہ کسی بھی حکومت، نظام اور معاشرے میں سب سے بڑی طاقت عوام اور ان کی میدان میں موجودگی ہے۔ کسی بھی معاشرے اور ملک کے لیے اللہ اور عوام سے بڑھ کر کوئی سرمایہ نہیں۔ اللہ تعالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ؛ اے نبی! تمہارے لیے اللہ کافی ہے، اور وہ مومن بھی جنہوں نے تمہاری پیروی اختیار کی ہے۔» (سورہ انفال: 64)۔
مولانا نے مزید کہا: اللہ تعالی کو تقویٰ سے ہے اور عوام کو ان کے حقوق کی خیالداری اور ان کی قدر کرنے سے ساتھ رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک اور معاشرے میں عوامی حمایت اور رضامندی حاصل ہونی چاہیے۔ سابقہ سوویت یونین جو کسی زمانے میں دنیا کی ایک بڑی طاقت تھا، تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود، افغانستان پر قبضے اور افغان جہاد کے دوران سیاسی اور معاشی طور پر بند گلی میں پھنس گیا تھا۔ سوویت یونین کے عوام بھوکے ہو گئے اور وہاں ناراضگی پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں اسے افغانستان میں شکست ہوئی۔ یہ وہ واقعات ہیں جن سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ دنیا کی تمام حکومتوں کو اپنی قوموں کی بات سننی چاہیے اور ان کے مطالبات پر توجہ دینی چاہیے تاکہ قوم مطمئن ہو سکے۔ کامیاب حکومتوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ عوام کے لیے ہر شعبے میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں اور ان کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اس جنگ میں شامل ہونے والے ممالک اپنے مفادات کے پیچھے ہیں
مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو کے اگلے حصے میں کہا کہ جو ممالک اس جنگ میں داخل ہوئے ہیں، اگرچہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایرانی عوام کی حمایت کے لیے آئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کے پیچھے ہیں۔ لیکن ہم ایران اور ایرانی قوم کے مفادات کا سوچتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: میں ماضی میں کئی بار پکار پکار کر کہہ چکا ہوں کہ ملک سیاسی اور معاشی میدانوں میں مشکلات کا شکار ہے۔ معیشت بند گلی میں پھنس چکی ہے اور آپ کو چاہیے کہ داخلی اور خارجی پالیسیوں میں اعتدال لائیں۔ ہم نے کہا کہ اپنی خارجہ پالیسیوں کو درست کریں تاکہ جنگ کا راستہ روکا جا سکے اور ملک کے خلاف کوئی خطرہ باقی نہ رہے، اور اپنی داخلی پالیسیوں میں بھی تبدیلی لائیں تاکہ سیاسی آزادیوں، قلم و بیان کی آزادی اور اسی طرح انصاف، خواتین کے حقوق اور تمام قومیتوں اور مسالک و مذاہب کے حقوق کی رعایت کی جا سکے۔ 47 سال سے خواتین، مختلف لسانی و مسلکی برادری اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے چلے آر ہے ہیں اور عدل و مساوات کے خواہاں ہیں۔

میں ایرانی عوام کے لیے ایک روشن مستقبل کی دعا کرتا ہوں
ایران کے ممتاز عالم دین نے واضح کیا: اب بھی میرا یہی ماننا ہے کہ جنگ روکنے اور ملک کے مسائل حل کرنے کا بہترین، تیزترین اور سستاترین راستہ یہ ہے کہ آپ اپنے موقف اور نظرات میں لچک پیدا کریں، عوام کی بات سنیں اور ان کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ اگر عوام میدان میں آ جائیں تو جنگ بھی رک جائے گی اور دیگر تمام مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا مقصد خیرخواہی اور ہمدردی کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالی ملک اور ایرانی عوام کے لیے ایک روشن مستقبل لکھے گا، قوم کے اندرونی اختلافات ختم ہوں گے اور ایران میں ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ کوئی بھی جنگ، انتہاپسندی اور بے جا جذباتیت کے پیچھے نہیں جائے گا، بلکہ سب عقل و دانش اور عوام کی رضامندی حاصل کرنے کی فکر کریں گے۔ تدبیر، مشورہ، عوامی رائے اور دنیا و عوام کے ساتھ تعامل اور افہام و تفہیم سے کام لینا بہت ضروری اور اہم ہے۔

ایرانی قوم علیحدگی پسند نہیں ہے؛ لیکن وہ انصاف اور آزادی چاہتی ہے اور اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی
مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو کے آخر میں ایرانی قوم میں کسی بھی قسم کی علیحدگی پسندی کی سوچ کو مسترد کرتے ہوئے کہا: کچھ لوگ ایرانی قوم کے حوالے سے علیحدگی پسندی کا ایشو چھیڑتے ہیں، جبکہ الحمدللہ ایرانی قوم کے ذہن میں علیحدگی پسندی کی کوئی سوچ موجود نہیں ہے۔ ایرانی قوم اپنے حقوق، آزادی اور انصاف کی طالب ہے۔
انہوں نے واضح کیا: ایرانی عوام اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، لیکن وہ اپنے حقوق چاہتے ہیں اور عدل و انصاف، مذہبی و سیاسی آزادیوں کے خواہاں ہیں؛ وہ اپنے اس حق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ان مطالبات پر کسی کے ساتھ سودے بازی نہیں کریں گے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں