مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی ہے، جس نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ تعلیم، طب، معیشت، قانون، صنعت، میڈیا کے ساتھ ساتھ اب دینی علوم، تفسیر، حدیث، فقہ اور فتوی نویسی میں بھی اس کے استعمال پر سنجیدہ علمی مباحث جاری ہیں۔ چوں کہ اسلامی شریعت ہر نئے پیش آنے والے مسئلے کے متعلق اصولی رہ نمائی فراہم کرتی ہے، اس لیے مصنوعی ذہانت کی شرعی حیثیت، اس کے استعمال کی حدود اور اس سے متعلق فقہی ضوابط کا تعین بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگرچہ قدیم فقہاء کے دور میں مصنوعی ذہانت کا وجود نہیں تھا، لیکن انہوں نے ایسے جامع اصول اور قواعد مرتب کیے ہیں جن کی روشنی میں ہرنئے مسئلے کا شرعی حکم متعین کیا جا سکتا ہے۔ اسی بنا پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی قواعد فقہیہ کی روشنی میں جانچا جا سکتا ہے، تا کہ اس کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے ممکنہ شرعی، اخلاقی اور معاشرتی نقصانات سے محفوظ رہا جا سکے، ان جدید مسائل کے حل میں کئی ایک سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
قواعد فقہیہ کا تعارف، ارتقا اور معاصر اہمیت
اسلامی فقہ کی وسعت، جامعیت اور دوام کا ایک اہم راز اس کے وہ کلّی اصول ہیں جنہیں قواعد فقہیہ کہا جاتا ہے۔ یہی قواعد ہزاروں جزوی مسائل کو چند جامع اصولوں کے تحت منظم کرتے ہیں اور فقہ اسلامی کو ہر دور کے نئے مسائل کا حل پیش کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ عصر حاضر میں جب مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، سائبر قوانین اور دیگر جدید مسائل سامنے آئے تو انہی قواعد فقہیہ نے معاصر فقہاء کو یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں بھی شریعت کے ابدی اصولوں کی روشنی میں نئے مسائل کا حکم متعین کر سکیں۔ اسی وجہ سے قواعد فقہیہ کو اسلامی قانون کا ایک بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے، کیوں کہ یہ فقہی جزئیات کو ایک منظم علمی نظام میں تبدیل کرتے ہیں۔ لغوی اعتبار سے قاعدہ اس مضبوط بنیاد کو کہتے ہیں جس پر کوئی عمارت قائم ہو۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
﴿وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ﴾․ (البقرة 127)
”اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھارہے تھے“۔
اس آیت میں ”القواعد“ سے مراد وہ بنیادیں ہیں جن پر بیت اللہ کی تعمیر ہوئی۔ فقہی اصطلاح میں بھی قاعدہ ایک ایسی کلی بنیاد کو کہا جاتا ہے جس کے تحت متعدد فقہی مسائل جمع ہو جاتے ہیں۔ گویا جس طرح عمارت اپنی بنیاد پر قائم ہوتی ہے، اسی طرح فقہی اجتہاد بھی ان اصولی قواعد پر استوار ہوتا ہے۔ فقہاء نے قواعد فقہیہ کی متعدد تعریفیں بیان کی ہیں، جن میں امام تقی الدین رحمہ اللہ کی تعریف نہایت جامع سمجھی جاتی ہے:
”القاعدة أمرٌ کُلِّیٌّ یَنْطَبِقُ عَلَیْہِ جُزْئِیَّاتٌ کَثِیرَةٌ تُعْرَفُ أَحْکَامُہَا مِنْہُ“․
”قاعدہ ایک ایسا کلی اصول ہے جس کے تحت بہت سے جزوی مسائل داخل ہوتے ہیں اور ان کے احکام اسی کلی اصول کی روشنی میں معلوم کیے جاتے ہیں۔“
یہ تعریف اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قواعد فقہیہ محض نظری مباحث نہیں، بلکہ عملی اجتہاد کے ایسے علمی آلات ہیں جن کی مدد سے ہزاروں نئے مسائل کا شرعی حکم متعین کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت جیسے پیچیدہ موضوعات کا فقہی تجزیہ بھی انہی قواعد کی روشنی میں زیادہ مضبوط اور منظم انداز میں ممکن ہے۔ مصنوعی ذہانت کے معاصر مسائل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر کا براہِ راست ذکر قدیم فقہی کتابوں میں موجود نہیں، کیوں کہ یہ مسائل جدید سائنسی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلامی فقہ ان مسائل کے بارے میں خاموش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہ اسلامی کے کلی قواعد ایسے جامع ہیں کہ ان کی روشنی میں مصنوعی ذہانت کے اکثر مسائل کا اصولی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر Al کے ذریعے فتویٰ نویسی، خود کار عدالتی فیصلے، طبی تشخیص، ڈیجیٹل راز داری، علمی سرقہ، جعلی تصاویر (Deepfake)، خودکار اسلحہ (Autonomous Weapons) اور مصنوعی ذہانت کی اخلاقی ذمہ داری جیسے تمام مسائل مختلف فقہی قواعد کے دائرے میں آتے ہیں، جن کا تفصیلی تجزیہ اس تحریر میں پیش کیا جائے گا۔
معروف قواعد فقہیہ
الأمور بمقاصدہا
الیقین لا یزول بالشک Al Hallucination
الضرر یزال اور Deepfake، Cyber fraud، Privacy
المشقة تجلب التیسیر اور AIکا تعلیمی، طبی اور افتائی استعمال
العادة محکمة اور AI کے عرف، ڈیجیٹل تعاملات اور قانونی اطلاقات
قاعدہ اول: الأمور بمقاصدہا
اسلامی فقہ کے پانچ عظیم بنیادی قواعد میں سب سے پہلے جس قاعدے کا ذکر کیا جاتا ہے وہ ”الأمور بمقاصدہا“ ہے۔ یہ قاعدہ فقہ اسلامی کے ان جامع اصولوں میں شامل ہے جن پر بے شمار فقہی مسائل کی بنیاد قائم ہے۔ عبادات، معاملات، نکاح، قضاء، تجارت، سیاست شرعیہ اور معاصر اجتہادی مسائل میں اس قاعدے سے مسلسل استدلال کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق پیدا ہونے والے متعدد سوالات کا درست شرعی تجزیہ بھی اسی اصول کی روشنی میں زیادہ واضح طور پر کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ مصنوعی ذہانت بذات خود نہ خیر ہے اور نہ شر، بلکہ اس کی شرعی حیثیت اس مقصد سے وابستہ ہے جس کے لیے اسے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس قاعدے کی بنیا د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم حدیث پر ہے جسے محدثین نے اسلام کی بنیادی احادیث میں شمار کیا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ، وَإنَّمَا لِکُلِ امْرِءٍ مَا نَوَی“․
”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔“
فقہاء نے اس حدیث سے یہ عظیم فقہی قاعدہ اخذ کیا کہ کسی بھی عمل کی شرعی حیثیت صرف اس کی ظاہری صورت سے متعین نہیں ہوتی ،بلکہ اس کے مقصد، نیت اور انجام کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ نے الأشباہ والنظائر میں اس قاعدے کو فقہ اسلامی کے بنیادی قواعد میں شمار کیا ہے، جب کہ امام شاطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وُضِعَتِ الشِّرِیعَةُ لِمَصَالِحِ الْعِبَادِ فِی الْعَاجِلِ وَالْآجِلِ مَعًا
”شریعت بندوں کی دنیا وآخرت دونوں کی مصلحتوں کے لیے وضع کی گئی ہے۔“
اس سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت کسی عمل کی صرف ظاہری شکل نہیں دیکھتی، بلکہ اس کے پس منظر، غرض وغایت اور نتائج کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں اس قاعدے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک محقق ChatGPT یا کسی اور Al نظام سے علمی مقالات کا ابتدائی خاکہ تیار کرتا ہے، حوالہ جات کی تلاش میں معاونت لیتا ہے یا فقہی متون کی فہرست سازی کے لیے AI استعمال کرتا ہے، جب کہ اصل تحقیق، تنقیدی تجزیہ اور حوالوں کی تصدیق خود انجام دیتا ہے، تو اس کا مقصد علمی سہولت اور تحقیق کو موٴثر بنانا ہے۔ ایسی صورت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اصولی طور پر جائز ہوگا، کیوں کہ یہاں AI ایک معاون وسیلہ ہے، نہ کہ علمی خیانت کا ذریعہ۔
اس کے برعکس اگر کوئی طالب علم یا محقق مصنوعی ذہانت سے پورا مقالہ تیار کرا کے اسے اپنی ذاتی تحقیق کے طور پر پیش کر دے، اصل مراجع کی مراجعت نہ کرے اور دوسروں کو یہ باور کرائے کہ تمام علمی محنت اس کی ہے، تو یہ عمل علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔ یہاں مسئلہ مصنوعی ذہانت نہیں، بلکہ اس کا ناجائز مقصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”الأمور بمقاصدہا“ کا قاعدہ اس عمل کی شرعی حیثیت متعین کرے گا، کیوں کہ وسیلہ وہی ہے، مگر نیت اور مقصد مختلف ہونے کی وجہ سے حکم بھی مختلف ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی اسلامی مالیاتی ادارہ مصنوعی ذہانت کو شرعی معاہدات کی جانچ، زکوة کے حساب، مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی یا شفافیت بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے تو یہ ایک مشروع مقصد ہے اور شریعت کے مصالح سے ہم آہنگ ہے۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی سودی لین دین کو زیادہ مؤثر بنانے، مالی فراڈ کو چھپانے یا صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کی جائے تو یہی وسیلہ ناجائز قرار پائے گا، کیوں کہ اس کا مقصد شریعت کے خلاف ہے۔ دعوت وتبلیغ کے میدان میں بھی یہی اصول رہ نمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے قرآن کریم کے تراجم، احادیث کی تشریح، اسلامی لائبریریوں کی ڈیجیٹل تنظیم، مختلف زبانوں میں دعوتی مواد کی تیاری اور نابینا یا معذور افراد کے لیے دینی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ نہ صرف جائز، بلکہ دینی خدمت کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ لیکن اگر AI کے ذریعے جھوٹی احادیث، من گھڑت فتاوی، فرقہ وارانہ نفرت یا دینی تحریفات پھیلائی جائیں تو یہی ٹیکنا لوجی گناہ کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے یہی فقہی قاعدہ بنیادی رہ نمائی فراہم کرتا ہے۔
راقم الحروف کے نزدیک معاصر فقہی مباحث میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ بعض لوگ اسے مطلقاً جائز یا مطلقا نا جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ فقہی اصول اس طرز فکر کی تائید نہیں کرتے۔ مصنوعی ذہانت کی صحیح شرعی حیثیت اس کے مقصد، استعمال اور نتائج کو سامنے رکھ کر متعین کی جائے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ”الأمور بمقاصدہا“ کا قاعدہ اپنی پوری وسعت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اس قاعدے کی روشنی میں مصنوعی ذہانت ایک ایسا تکنیکی وسیلہ ہے جس کا حکم ہر استعمال میں الگ الگ متعین ہوگا اور یہی منہج اسلامی فقہ کی جامعیت اور عصری مسائل سے ہم آہنگی کو نمایاں کرتا ہے۔
قاعدہ ”الأمور بمقاصدہا“ کی روشنی میں مصنوعی ذہانت، فتویٰ اور اجتہاد
معاصر دور میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سب سے زیادہ زیر بحث سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ آیا Al فتوی دے سکتی ہے؟ کیا ChatGPT یا اس جیسے بڑے لسانی ماڈلز (Large Language Models) شرعی احکام بیان کرنے یا اجتہادی مسائل میں رہ نمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ یہ سوال محض تکنیکی نوعیت کا نہیں، بلکہ اس کا تعلق براہِ راست اصول فقہ، افتاء، اجتہاد اور شریعت کے مقاصد سے ہے۔اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ فتویٰ محض معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ذمہ دارانہ شرعی عمل ہے، جس میں نصوص شرعیہ، مقاصد شریعہ، قواعد فقہیہ، عرف مآلات افعال اور سائل کے مخصوص حالات کو سامنے رکھ کر حکم بیان کیا جاتا ہے۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کی حقیقی نوعیت اور حدود کو سمجھنا نا گزیر ہے۔
اسلامی فقہ میں مفتی کا منصب نہایت عظیم اور ذمہ دارانہ منصب ہے۔ مفتی در حقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو سمجھ کر لوگوں تک پہنچانے والا ہوتا ہے، اس لیے فقہاء نے فتویٰ دینے کے لیے گہرے علمی، اخلاقی اور عملی اوصاف کو ضروری قرار دیا ہے۔ إعلام الموقّعین عن رب العالمین میں امام ابن القیم رحمہ اللہ نے مفتی کو ”موقّع عن رب العالمین“ یعنی اللہ تعالی کی طرف سے حکم بیان کرنے والا قرار دیا ہے۔ اس تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ فتویٰ محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک عظیم شرعی امانت ہے، جس میں معمولی غفلت بھی سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی موجودہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لاکھوں صفحات پر مشتمل فقہی مواد، تفاسیر، احادیث اور معاصر علمی ذخیرے سے معلومات جمع کر سکتی ہے، مختلف فقہی آراء کا خلاصہ پیش کر سکتی ہے، متعلقہ نصوص کی نشاندہی کر سکتی ہے اور تحقیقی معاونت فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود AI نہ تو مجتہد ہے، نہ مفتی، نہ مکلف اور نہ ہی اس کے اندر نیت، تقویٰ، عدل، اجتہادی بصیرت یا حالات واقعہ کو سمجھنے کی وہ صلاحیت موجود ہے جو ایک حقیقی مفتی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ یہی بنیادی فرق مصنوعی ذہانت اور انسانی افتاء کے درمیان حد فاصل قائم کرتا ہے۔
قاعدہ ”الأمور بمقاصدہا“ کی روشنی میں دیکھا جائے تو مصنوعی ذہانت سے فتویٰ لینے کی مختلف صورتیں مختلف احکام رکھتی ہیں۔ اگر ایک مستند مفتی یا فقیہ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک تحقیقی معاون کے طور پر استعمال کرتا ہے، مثلاً متعلقہ آیات، احادیث، فقہی اقوال یا سابقہ فتاویٰ کی تلاش کے لیے اور پھر ان تمام مواد کا تنقیدی جائزہ لے کر خود شرعی حکم مرتب کرتا ہے، تو یہ استعمال اصولی طور پر جائز بلکہ مفید شمار ہوگا۔ اس صورت میں مصنوعی ذہانت ایک وسیلہ ہے اور اصل اجتہاد وافتاء انسان انجام دے رہا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ جواب کو بغیر تحقیق، بغیر مراجعت اور بغیر علمی ذمہ داری کے فتویٰ قرار دے کر لوگوں میں پھیلانا شروع کر دے تو یہ عمل نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہوگا، بلکہ شرعی اعتبار سے بھی محل اشکال ہوگا، کیوں کہ یہاں مقصد تحقیق نہیں، بلکہ غیر ذمہ دارانہ اعتماد ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِکرِ إِن کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾․ (النحل 16:43)
”لہٰذا اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لیا کرو۔“
اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں: کہ ”اہل ذکر“ سے مراد وہ اہل علم ہیں جو قرآن وسنت اور فقہ میں مہارت رکھتے ہوں۔ آیت کا اسلوب اس بات کی طرف رہ نمائی کرتا ہے کہ دینی رہ نمائی ایسے اہل علم سے حاصل کی جائے جو نہ صرف معلومات رکھتے ہوں، بلکہ ان معلومات کو صحیح تناظر میں سمجھنے اور ان کا اطلاق کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ موجودہ مصنوعی ذہانت اس معیار پر پوری نہیں اترتی، کیوں کہ وہ شعور، اجتہادی بصیرت اور شرعی ذمہ داری سے محروم ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ النَّاسِ، وَلَکِن یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلماءِ“․
”اللہ تعالی علم کو لوگوں کے سینوں سے نکال کر نہیں اٹھائے گا، بلکہ علماء کو اٹھا لے گا۔“
یہ حدیث اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ شریعت میں علم کی اصل نسبت اہل علم سے ہے، نہ کہ محض معلومات کے ذخیرے سے۔ مصنوعی ذہانت اگرچہ معلومات کو محفوظ اور منظم کرسکتی ہے، لیکن وہ ”عالم“ یا مجتہد کا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔
مقالہ نگار کے نزدیک مستقبل میں مصنوعی ذہانت دارالافتاء، اسلامی جامعات اور تحقیقی اداروں کے لیے ایک انتہائی مؤثر معاون ثابت ہوگی۔ یہ فقہی ذخیرے کی تلاش مختلف مذاہب کے اقوال کا تقابلی مطالعہ، قدیم مخطوطات کی فہرست سازی، احادیث کی ابتدائی تخریج اور معاصر تحقیقات کے تجزیے میں غیر معمولی سہولت فراہم کرے گی۔
تاہم فتویٰ کا آخری فیصلہ ہمیشہ ایک مستند، با صلاحیت اور جواب دہ مفتی ہی کرے گا۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کو ”مساعد للمفتی“ (مفتی کا معاون) قرار دینا زیادہ درست ہے، نہ کہ ”مفتٍ الکترونی“ (الیکٹرانک مفتی) یا ”مجتہد آلی“ (خودکار مجتہد)۔ یہی تعبیر اصول فقہ، قواعد فقہیہ اور مقاصد شریعہ کے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے اور معاصر اسلامی فقہ کے لیے ایک متوازن علمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
قاعدہ ”الأمور بمقاصدہا“ کی روشنی میں مصنوعی ذہانت اور سرقہٴ علمی
علمی تحقیق امانت، دیانت اور حقیقت پسندی پر قائم ہوتی ہے۔ کسی بھی تحقیقی کام کی قدر وقیمت صرف اس کے نتائج سے نہیں، بلکہ اس طریقہ کار سے بھی متعین ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ نتائج حاصل کیے گئے ہوں۔ عصر حاضر میں مصنوعی ذہانت نے تحقیق کے میدان میں بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں۔ علمی مضامین کا خلاصہ، زبان کی اصلاح، حوالہ جات کی ابتدائی تلاش، تحقیقی خاکہ سازی، اعداد وشمار کا تجزیہ اور مختلف زبانوں کے متون کا تقابلی مطالعہ اب پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ تاہم انہی سہولیات کے ساتھ ایک اہم اخلاقی اور فقہی مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے، جسے سرقہ علمی (Plagiarism) اور علمی دیانت (Academic Integrity) کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ اسلامی شریعت میں علم کو محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک امانت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمٰنٰتِ إِلَی أَہْلِہَا﴾․ (النساء4:58)
”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے حوالے کرو“
اگرچہ یہ آیت عام امانتوں کے بارے میں ہے، لیکن مفسرین نے اس کے مفہوم کو ہر اس امانت تک وسیع قرار دیا ہے، جو انسان کے سپرد کی جائے اور علمی امانت اس کی نمایاں مثال ہے۔ کسی دوسرے کے علمی افکار، تحقیقات یا تحریروں کو اپنی طرف منسوب کرنا اس امانت میں خیانت کے مترادف ہے، خواہ یہ کام روایتی طریقے سے کیا جائے یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا“․ ”جس نے ہمیں دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں“۔
یہ حدیث تجارت تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس معاملے پر دلالت کرتی ہے جس میں دھوکہ، فریب یا حقیقت کو چھپانا پایا جائے۔ اگر کوئی محقق مصنوعی ذہانت سے پورا مقالہ تیار کروا کر اسے اپنی اصل تحقیق کے طور پر پیش کرتا ہے یا AI کے تیار کردہ متن کو بغیر مناسب حوالہ تنقید اور علمی اضافہ کے اپنے نام سے شائع کرتا ہے، تو یہ علمی دیانت کے منافی عمل ہوگا، کیوں کہ یہاں حقیقت کو چھپایا جارہا ہے۔
قاعدہ ”الأمور بمقاصدہا“ اس مسئلے میں بنیادی رہ نمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کا استعمال زبان کی اصلاح، علمی تنظیم، ابتدائی خاکہ سازی، ترجمہ، یا مراجع کی تلاش کے لیے کیا جائے اور اصل تجزیہ، استدلال، تنقید اور نتائج محقق خود مرتب کرے، تو اس استعمال کا مقصد تحقیق میں سہولت پیدا کرنا ہے، جو اصولی طور پر جائز ہے۔ اس کے برعکس اگر مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا، علمی معیار کو دھوکہ دینا یا دوسروں کو اپنی علمی صلاحیت کے بارے میں غلط تاثر دینا ہو تو یہی عمل نا جائز اور اخلاقی خیانت بن جائے گا۔
معاصر جامعات اور تحقیقی ادارے بھی اسی اصول کو مختلف اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مصنوعی ذہانت ایک Tool Support Research ہو سکتی ہے، لیکن Research Replacement Tool نہیں۔ اسلامی فقہ کی روشنی میں بھی یہی نتیجہ سامنے آتا ہے، کیوں کہ شریعت وسائل کو ان کے مقاصد کے تابع قرار دیتی ہے۔ لہٰذا Al کا حکم اس مقصد کے مطابق ہوگا جس کے لیے اسے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مقالہ نگار کے نزدیک اس مسئلے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینا علمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جب کہ دوسری طرف اسے غیر مشروط آزادی دینا تحقیق کی روح کو ختم کر سکتا ہے۔ درست منہجیہ ہے کہ Al کو ایک تحقیقی معاون (Research Assistant) کے طور پر قبول کیا جائے، بشرطیکہ محقق خود اصل مراجع کا مطالعہ کرے، دلائل کا تنقیدی جائزہ لے، حوالہ جات کی صحت کی تصدیق کرے اور نتائج اپنی علمی بصیرت کی بنیاد پر مرتب کرے۔ یہی طرز عمل علمی امانت فقہی اصولوں اور مقاصد شریعت کے زیادہ قریب ہے۔
راقم الحروف کی رائے میں مستقبل میں جامعات کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے واضح اخلاقی ضوابط (Ethical Guidelines) مرتب کرنے چاہییں، جن میں AI کے جائز استعمال، اس کی حدود، حوالہ نویسی کے اصول اور محقق کی ذمہ داریوں کو واضح کیا جائے۔ اس سے نہ صرف علمی معیار محفوظ رہے گا، بلکہ مصنوعی ذہانت کی افادیت سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔
قاعدہ ثانی: ”الیقین لا یزول بالشک“ اور مصنوعی ذہانت پر اس کی تطبیقات
اسلامی فقہ کے بنیادی قواعد خمس میں دوسرا عظیم قاعدہ ”الیقین لایزول بالشک“ ہے۔ یہ قاعدہ فقہ اسلامی میں اس قدر بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ عبادات، معاملات، قضاء،طب، مالیات اور معاصر فقہی مسائل میں اس سے مسلسل استدلال کیا جاتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو امر یقینی طور پر ثابت ہو، وہ محض شک، گمان یا غیر مصدقہ احتمال کی بنیاد پرختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اصول فقہ اسلامی کو استحکام، توازن اور عدل عطا کرتا ہے، کیوں کہ اگر یقین کو معمولی شبہات کی بنیاد پر ختم کیا جانے لگے تو قانونی اور شرعی نظام عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ اس قاعدے کی اصل قرآن وسنت دونوں سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَإِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا﴾․ (یونس 10: 36)
”اور حقیقت یہ ہے کہ گمان حق کے معاملے میں کچھ بھی کام نہیں آتا۔“
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّن﴾․ (الانعام 6:116) ”یہ لوگ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔“
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ صرف ظن اور غیر یقینی معلومات کو قطعی حقیقت کا قائم مقام نہیں بنایا جا سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ فِی بَطْنِہِ شَیْئًا فَأَشْکَلَ عَلَیْہِ أَخَرَجَ مِنْہُ شَیْءٌ أَمْ لَا فَلَا یَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّی یَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ یَجِدَ رِیحًا“․
یعنی جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران شک ہو کہ اس کا وضو ٹوٹا ہے یا نہیں،تو وہ اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک یقینی علامت نہ پالے۔
فقہاء نے اسی حدیث سے یہ کلی اصول اخذ کیا کہ یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”الأصل بقاء ما کان علی ما کان، والیقین لا یزول بالشک“․ یہ قاعدہ مصنوعی ذہانت کے باب میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، کیوں کہ موجودہ Al نظام خصوصاً بڑے لسانی ماڈلز (Large Language Models) بعض اوقات ایسے جوابات بھی پیش کرتے ہیں جو بظاہر نہایت مربوط اور علمی محسوس ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان میں جزوی یا کلی غلطی موجود ہوتی ہے۔ جدید تکنیکی اصطلاح میں اس کیفیت کو Al Hallucination کہا جاتا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت غیر موجود حوالہ، غلط حدیث، من گھڑت کتاب یا کسی عالم کی طرف غلط نسبت بھی پیش کر سکتی ہے۔ فقہی اعتبار سے ایسی معلومات یقین کا درجہ حاصل نہیں کر سکتیں، کیوں کہ ان کی بنیاد اصل ماخذ پر نہیں، بلکہ احتمالی متن سازی (Probabilistic Text Generation) پر ہوتی ہے۔چناں چہ اگر کسی فقہی مسئلے میں صحیح حدیث، معتبر اجماع یا مستند فقہی نص موجود ہو تو Al کی غیر مصدقہ معلومات اس یقینی دلیل کو متاثر نہیں کر سکتیں۔ یہی اس قاعدے کا عملی تقاضا ہے۔
مثال کے طور پر اگر مصنوعی ذہانت کسی حدیث کا حوالہ صحیح بخاری کی طرف منسوب کرے، لیکن اصل کتاب میں وہ حدیث موجود نہ ہو، تو صرف AI کے اعتماد کے ساتھ اس حدیث کو نقل کرنا علمی اور شرعی دونوں اعتبار سے درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر AI کسی فقہی قاعدے کو کسی ایسے امام کی طرف منسوب کرے جس کی تصریح اصل ماخذ میں نہ ملتی ہو، تو محقق پر لازم ہوگا کہ اصل کتاب کی مراجعت کرے۔ اس مقام پر ”الیقین لا یزول بالشک“ صرف ایک نظری قاعدہ نہیں، بلکہ تحقیق کا عملی معیار بن جاتا ہے۔
اسی اصول کا اطلاق عدالتی نظام میں بھی ہوتا ہے۔ اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت کسی مقدمے کے بارے میں مجرم ہونے کا قوی امکان ظاہر کرے، لیکن شرعی یا قانونی شہادت مکمل نہ ہو، تو صرف AI کے تجزیے کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسلامی قانون میں سزا کا مدار یقین اور معتبر ثبوت پر ہے، نہ کہ مشینی امکانات پر۔ یہی وجہ ہے کہ AI کو عدالتی معاون تو بنا یا جا سکتا ہے، لیکن اسے قطعی فیصلہ صادر کرنے کا اختیار دینا فقہی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہوگا۔
راقم التحریر کے نزدیک Al Hallucination معاصر فقہی تحقیق کا ایک نہایت اہم موضوع ہے اور اس کا بہترین اصولی علاج یہی فقہی قاعدہ فراہم کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی ہر نئی معلومات اس وقت تک ظنی حیثیت رکھتی ہے جب تک وہ مستند مصادر سے ثابت نہ ہو جائے۔ لہٰذا قرآن کریم، صحیح احادیث، اجماع، معتبر فقہی متون اور تصدیق شدہ علمی مراجع کی موجودگی میں AI کا جواب صرف معاون معلومات سمجھا جائے گا، نہ کہ مستقل شرعی دلیل۔ یہی منہج علمی دیانت، اصول فقہ اور مقاصد شریعت تینوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔
قاعدہ ثالث: ”الضرر یزال“ اور مصنوعی ذہانت پر اس کی تطبیقات
اسلامی فقہ کے عظیم قواعد خمس میں ”الضرر یزال“ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس قاعدے کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ ہر وہ ضرر، نقصان یا فساد جس سے فرد، معاشرہ یا انسانیت متاثر ہو، شریعت اس کے ازالے اور روک تھام کا حکم دیتی ہے۔ فقہ اسلامی کا مقصد محض عبادات کی تعلیم نہیں، بلکہ ایک ایسے عادلانہ اور محفوظ معاشرے کا قیام بھی ہے جس میں جان، مال، عزت، عقل اور دین محفوظ رہیں۔ یہی وہ تصور ہے جو بعد میں مقاصد شریعہ کی صورت میں منظم ہوا۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کے متعدد استعمالات ایسے ہیں جن میں فائدے کے ساتھ نقصان کے امکانات بھی موجود ہیں، اس لیے اس قاعدے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
اس قاعدے کی اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث ہے:
”لا ضَرَرَ وَلَا ضِرار“․ ”نہ خود کو نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔“
اگر چہ یہ حدیث مختصر ہے، لیکن فقہاء نے اسے اسلامی قانون کے عظیم ترین اصولوں میں شمار کیا ہے۔ امام نووی اور امام سیوطی رحمہما اللہ سمیت متعدد ائمہ نے واضح کیا ہے کہ فقہ کے بے شمار مسائل اسی حدیث کے تحت آتے ہیں، کیوں کہ شریعت کا بنیادی مقصد انسانی ضرر کو ختم کرنا اور مصلحت کو فروغ دینا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے تناظر میں سب سے پہلے ڈیپ فیک (Deepfake) کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ جدید AI ایسے ویڈیوز، تصاویر اور آواز میں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو حقیقت سے اس قدر مشابہ ہوتی ہیں کہ عام انسان کے لیے اصل اور جعلی میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر ان ذرائع کو تفریح، فلم سازی یا جائز تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو الگ بحث ہے، لیکن جب انہیں کسی شخص کی کردار کشی، سیاسی انتشار، مالی فراڈ یا جھوٹے الزامات کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ صریح ضرر ہے اور قاعدہ ”الضرر یزال“ کا تقاضا ہے کہ ایسے استعمالات کو قانونی اور شرعی دونوں سطحوں پر روکا جائے۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے سائبر فراڈ (Cyber Fraud) اور ڈیجیٹل جعل سازی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مجرم AI کی مدد سے جعلی ای میلز، بینک پیغامات، شناختی دستاویزات اور آوازیں تیار کر کے لوگوں کے مالی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلامی شریعت میں لوگوں کے اموال کا تحفظ بنیادی مقصد ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وَلَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾․ (البقرة 2: 188)
”اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔“
یہ آیت ہر اس طریقے کو ممنوع قرار دیتی ہے جس کے ذریعے کسی کا مال ناجائز طور پر حاصل کیا جائے۔ لہٰذا اگر مصنوعی ذہانت مالی دھوکہ دہی کا ذریعہ بنے تو اس کے استعمال کی حرمت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ راز داری (Privacy) بھی مصنوعی ذہانت کا ایک اہم اخلاقی اور فقہی مسئلہ ہے۔ متعدد Al نظام صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع کرتے، اس کا تجزیہ کرتے اور بعض اوقات تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہ عمل صارف کی رضامندی، قانونی حدود اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہو تو اس کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن اگر کسی کی نجی معلومات کو اس کی اجازت کے بغیر حاصل کیا جائے یا اسے نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوگا۔ قرآن کریم کا واضح حکم ہے:
﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾․ (الحجرات 49:12) ”اور تجسّس نہ کرو۔“
یہ مختصر حکم عصر حاضر کے ڈیجیٹل ماحول میں بھی اپنی پوری معنویت رکھتا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی نگرانی، ڈیٹا چوری اور خفیہ معلومات کے ناجائز استعمال پر بھی منطبق ہوتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے طبی استعمالات میں بھی یہی قاعدہ بنیادی رہ نمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی AI نظام مریض کی جان بچانے، بیماری کی بروقت تشخیص یا علاج کے بہتر انتخاب میں مدددیتا ہے تو یہ ضرر کے ازالے کا ذریعہ ہے اور شریعت کے مقصد حفظ النفس کے مطابق ہے۔ لیکن اگر ناقص تربیت یافتہ Al غلط تشخیص دے یا بغیر انسانی نگرانی کے حساس طبی فیصلے کرنے لگے، جس سے مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو، تو ایسی صورت میں اس کے استعمال کو محدود کرنا یا انسانی نگرانی کو لازمی قرار دینا اسی فقہی قاعدے کا تقاضا ہو گا۔
اسی اصول کا اطلاق خود کار اسلحہ (Autonomous Weapons) پر بھی ہوتا ہے۔ اگر مستقبل میں ایسے ہتھیار تیار کیے جائیں جو انسانی نگرانی کے بغیر ہدف منتخب کریں اور حملہ کریں، تو ان سے بے گناہ افراد کی جانوں کوشدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
مقالہ نگار کے نزدیک ایسے نظام اسلامی قانون کے اصول عدل، ذمہ داری اور انسانی جان کے احترام سے متصادم ہیں۔ اس لیے ان کی تیاری اور استعمال پر فقہی سطح پر مزید گہری بحث کی ضرورت ہے، اور ”الضرر یزال“ اس سلسلے میں ایک مضبوط اصولی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
راقم الحروف کی رائے یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے متعلق مستقبل کی قانون سازی میں اس فقہی قاعدے کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔ کوئی بھی AI نظام اس وقت تک قابل قبول نہیں ہونا چاہیے جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس کے فوائد اس کے نقصانات پر غالب ہیں، اس کے استعمال سے انسانی حقوق محفوظ رہتے ہیں اور اس کے ممکنہ ضرر کو مناسب قانونی اور تکنیکی تدابیر کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے۔ اگر کسی AI ٹیکنالوجی کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوں یا وہ معاشرتی فساد، مالی استحصال، معلوماتی جنگ، کردار کشی یا انسانی آزادیوں کی پامالی کا ذریعہ بن جائے تو فقہی اصولوں کی روشنی میں اس پر پابندی یا سخت ضابطہ بندی (Regulation) عائد کرنا عین شریعت کے مطابق ہوگا۔
قاعدہ رابع: ”المشقة تجلب التیسیر“ اور مصنوعی ذہانت پر اس کی تطبیقات
اسلامی شریعت کا ایک نمایاں امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کو ایسے احکام کی پابندی کا مکلف نہیں بناتی جو اس کی طاقت سے باہر ہوں یا جن میں غیر معمولی مشقت پائی جائے۔ شریعت اسلامیہ اگرچہ ذمہ داری اور احتساب کا نظام قائم کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی انسانی کم زوری، مجبوری اور عملی مشکلات کو بھی پیش نظر رکھتی ہے۔ اسی حقیقت کو فقہ اسلامی کے قاعدے ”الْمَشَقَّةُ تَجْلِبُ التَّیْسِیَر“ میں بیان کیا گیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب کسی معاملے میں غیر معمولی مشقت پیدا ہو جائے تو شریعت اس میں آسانی اور تخفیف کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ یہ قاعدہ عبادات، معاملات، طب،سفر، تجارت اور دیگر فقہی ابواب کی طرح جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی منطبق ہوتا ہے۔
اس قاعدے کی بنیاد قرآن وسنت کے متعدد نصوص میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿یُرِیدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیدُ بِکُمُ الْعُسْر﴾․ (البقرة 2:185)
”اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں چاہتا۔“
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
﴿وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ﴾․ (الحج 22:78)
”اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔“
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إن الدین یُسر“․ ”بے شک دین آسانی کا نام ہے۔“
یہ نصوص اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام کا مقصد انسان کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنا نہیں، بلکہ اس کی زندگی کو عدل، سہولت اور توازن کے ساتھ منظم کرنا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں اس قاعدے کی سب سے نمایاں تطبیق تعلیم وتحقیق میں نظر آتی ہے۔ ماضی میں کسی ایک فقہی مسئلے پر تحقیق کرنے کے لیے درجنوں جلدوں کا مطالعہ، مختلف کتب خانوں کا سفر اور طویل وقت درکار ہوتا تھا، جب کہ آج مصنوعی ذہانت کی مدد سے ابتدائی معلومات، متعلقہ مراجع فقہی آراء اور تحقیقی مواد نسبتا کم وقت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر محقق اس سہولت کو اصل مراجع کی مراجعت، تنقیدی مطالعہ اور علمی تجزیے کے ساتھ استعمال کرے تو یہ قاعدہ ”المشقة تجلب التیسیر“ کا ایک واضح مصداق ہوگا، کیوں کہ یہاں مصنوعی ذہانت نے مشقت کو کم کیا ہے، تحقیق کی روح کو ختم نہیں کیا۔
اسی طرح نابینا افراد، سماعت سے محروم اشخاص اور جسمانی معذوری رکھنے والے افراد کے لیے مصنوعی ذہانت ایک عظیم نعمت بن سکتی ہے۔ جدید AI نظام متن کو آواز میں تبدیل کرتے ہیں، تقریر کو تحریر میں منتقل کرتے ہیں، تصاویر کی وضاحت فراہم کرتے ہیں اور مختلف زبانوں کا فوری ترجمہ کرتے ہیں۔ ان سہولیات کے ذریعے ایسے افراد بھی قرآن کریم، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم تک بہتر انداز میں رسائی حاصل کر سکتے ہیں جن کے لیے روایتی ذرائع دشوار تھے۔ یہ استعمال مقاصد شریعت کے مطابق رفع حرج اور تحصیل مصلحت کی بہترین مثال ہے۔ طبی میدان میں مصنوعی ذہانت کی افادیت اس قاعدے کو مزید واضح کرتی ہے۔ AI پر مبنی تشخیصی نظام بعض بیماریوں کی ابتدائی علامات کو جلد پہچان لیتے ہیں، طبی تصاویر (Medical Imaging) کا تجزیہ کرتے ہیں اور معالج کو ممکنہ تشخیص کی طرف رہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔ اگر چہ حتمی فیصلہ ماہر ڈاکٹر ہی کرے گا، لیکن مصنوعی ذہانت تشخیص کے عمل کو تیز، مؤثر اور نسبتاً آسان بنا دیتی ہے۔ اس طرح یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مریض کی تکلیف کم کرتی ہے، بلکہ انسانی جان کے تحفظ (حفظ النفس) میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے، جو مقاصد شریعت کا بنیادی مقصد ہے۔
افتاء اور شرعی تحقیق میں بھی یہی اصول قابل اطلاق ہے۔ ایک مستند مفتی کو بسا اوقات ایک ہی مسئلے پر متعدد فقہی مذاہب، قدیم مصادر، معاصر فتاوی اور قانونی دستاویزات کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ مصنوعی ذہانت ان مراجع کی تلاش، ترتیب اور ابتدائی خلاصہ سازی میں مدد دے سکتی ہے، جس سے وقت اور محنت کی بچت ہوتی ہے۔ تاہم اس سہولت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ AI کو مفتی کا قائم مقام بنا دیا جائے۔ یہاں تیسیر (آسانی) کا تعلق تحقیقی عمل سے ہے، نہ کہ اجتہادی ذمہ داری سے۔ شرعی حکم کی آخری ذمہ داری بدستور مستند عالم اور مفتی پر عائد رہے گی۔ اسلامی مالیات اور بینکاری میں بھی مصنوعی ذہانت پیچیدہ مالی معاہدات کا تجزیہ، زکوة کے حساب، شرعی معیارات کی ابتدائی جانچ اور خطرات کی نشان دہی میں معاون ہو سکتی ہے۔ اگر اس کا استعمال شفافیت، امانت اور شرعی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہو تو یہ جائز بلکہ مفید ہوگا، کیوں کہ یہاںAl کا مقصد انسانی مشقت کو کم کرنا اور نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ تاہم اس قاعدے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آسانی کو بے ضابطگی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ چوں کہ AI سے تحقیق آسان ہو گئی ہے، اس لیے اصل کتابیں پڑھنے یا حوالوں کی تصدیق کی ضرورت نہیں رہی، تو یہ استدلال درست نہیں ہوگا۔ فقہاء نے تصریح کی: امام عز بن عبد السلام رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”إذا وجدت المشقة ثبت التخفیف بحسبہا“․
”جب مشقت پائی جائے تو اسی کے بقدر شرعی تخفیف (رخصت) ثابت ہوتی ہے۔“
رخصت (آسانی) وہاں دی جاتی ہے جہاں واقعی ضرورت یا مشقت موجود ہو، نہ کہ سستی، غفلت یا علمی کوتاہی کی بنیاد پر۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کی سہولت کو علمی ذمہ داری سے فرار کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا۔
مقالہ نگار کے نزدیک مصنوعی ذہانت اس وقت شریعت کے اصول ”المشقة تجلب التیسیر“ کا صحیح مصداق بنے گی جب وہ انسانی صلاحیتوں کا متبادل (Replacement) نہیں، بلکہ معاون (Assistance) بنے۔ شریعت جس آسانی کی تعلیم دیتی ہے وہ ذمہ داری کے ساتھ آسانی ہے، نہ کہ ذمہ داری سے آزادی۔ لہٰذاAl کا مطلوبہ کردار یہ ہے کہ وہ انسان کے علم تحقیق، تدریس، طب، دعوت اور خدمت خلق کو زیادہ مؤثر بنائے، جب کہ فیصلہ، اجتہاد، اخلاقی ذمہ داری اور شرعی احتساب بدستور انسان ہی کے پاس رہیں۔
القاعدة الخامسة: العادة محکمة (عرف معتبر ہے)
العادة محکمة فقہ اسلامی کے پانچ کلی قواعد (القواعد الفقہیة الکبری) میں سے پانچواں اور نہایت اہم قاعدہ ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ عرف وعادت جو شریعت کے کسی قطعی حکم سے متصادم نہ ہو، احکام شرعیہ کے فہم، معاملات کی تعبیر اور نزاعات کے فیصلے میں معتبر اور فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ فقہاء نے واضح کیا ہے کہ شریعت نے ایسے بہت سے معاملات میں عرف کو معیار بنایا ہے جن کی تفصیلات نصوص میں متعین نہیں کی گئیں۔ اسی لیے فقہ اسلامی میں عرف کو اجتہاد، فتویٰ اور قضاء کا ایک اہم ماخذ تسلیم کیا گیا ہے۔ امام ابن عابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”الثابت بالعرف کالثابت بالنص“․
”جو چیز صحیح عرف سے ثابت ہو، وہ (اپنے دائرے میں) نص سے ثابت ہونے والی چیز کی طرح معتبر ہوتی ہے۔“
اسی اصول کو مجلة الأحکام العدلیہ نے اپنے بنیادی قواعد میں شامل کرتے ہوئے کہا: ”العادة محکمة“․
قرآن مجید سے استدلال: اگر چہ قرآن مجید میں ”العادة محکمہ“ کے الفاظ موجود نہیں، لیکن متعدد آیات عرف کو شرعی معیار قرار دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأُمُرْ بِالْعُرْفِ﴾․ (الاعراف: 199) ”درگزر کو اختیار کرو، نیکی کا حکم دو۔“
مفسرین نے ”العرف“ سے مراد ہر وہ معروف اور بھلائی لی ہے جسے شریعت اور صالح معاشرہ پسند کرتا ہو۔ اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾․ (النساء:19)
”اور ان کے ساتھ دستور کے مطابق اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔“
یہاں ”بالمعروف“ سے مراد وہ حسن معاشرت ہے جسے شریعت اور معاشرے کا صحیح عرف تسلیم کرتا ہو۔ اسی طرح فرمایا:
﴿وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾․ (البقرة:228)
”اور عورتوں کے لیے بھی دستور کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔“
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے متعدد معاملات میں معروف اور عرف کو قانونی معیار قرار دیا ہے۔
سنت نبوی سے استدلال
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ما رآہ المسلمون حسناً فہو عند اللّٰہ حسن“․
”جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔“
بعض اہل علم نے اسے موقوف قرار دیا ہے، تاہم فقہاء نے عرف کے باب میں اس سے استدلال کیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
”خذی ما یکفیک، وولدک بالمعروف“․
”تم اپنے اور اپنے بچوں کے لیے دستور کے مطابق اتنالے لیا کرو جو تمہارے لیے کافی ہو۔“
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نفقہ کی مقدار کو عرف کے مطابق متعین کیا جائے گا۔
قاعدہ خامس اور مصنوعی ذہانت (Al)
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ایک نئے عرف (Digital Custom) کو جنم دیا ہے۔ ماضی میں عرف کا تعلق بازار، تجارت اور مقامی سماجی روایات سے تھا، جب کہ آج درج ذیل امور عالمی عرف بن چکے ہیں: الیکٹرانک معاہدے (Electronic Contracts) ڈیجیٹل دستخط (Digital Signatures)Al Chatbots کے ذریعے معاہداتی گفتگو AI سے تیار کردہ قانونی دستاویزات، آن لائن خرید وفروخت، اسمارٹ کنٹریکٹس (Smart Contracts ) پر مبنی کسٹمر سروس۔
اگر یہ تمام تعاملات معاشرے میں عمومی عرف اختیار کر لیں اور شریعت کے کسی قطعی حکم سے متصادم نہ ہوں تو فقہی قاعدة ”العادة محکمة“ کی روشنی میں ان کی شرعی حیثیت تسلیم کی جاسکتی ہے۔
AI میں قانونی اطلاقات
Al کے ذریعے تیار کردہ معاہدے معتبر ہوسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل دستخط شرعی طور پر قبول کیے جاسکتے ہیں۔Al کی مدد سے خود کار تجارتی لین دین جائز ہوسکتا ہے۔ آن لائن رضامندی (Click-wrap Agreements) معتبر قرار دی جاسکتی ہے۔ AI کی بنیاد پر مالی اور بینکاری خدمات کی شرعی حیثیت عرف کی روشنی میں متعین کی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ سب اس وقت معتبر ہو گا جب مندرجہ ذیل شرائط اس میں پائی جائیں۔
- شریعت کی کسی قطعی نص کی مخالفت نہ ہو۔
- دھوکہ (غرر) سود (ربا) یا ظلم نہ پایا جائے۔
- صارف کے حقوق اور راز داری محفوظ رہے۔
- مقاصد شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو۔
قاعدہ ”العادة محکمة“ اسلامی فقہ کی لچک اور آفاقیت کا مظہر ہے۔ یہ قاعدہ ہر دور کے نئے سماجی اور تکنیکی عرف کو اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک وہ قرآن وسنت اور مقاصدِ شریعت کے خلاف نہ ہو۔ عصر حاضر میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معاہدات، الیکٹرانک تجارت اور خود کار نظاموں نے نئے عرف کو جنم دیا ہے، جن کی شرعی حیثیت کا تعین اسی فقہی قاعدے کی روشنی میں کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ قاعدہ اسلامی قانون کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
خلاصہ بحث (Conclusion)
اس تحقیقی مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مصنوعی ذہانت عصر حاضر کی ایک مؤثر، مفید اور ناگزیر ٹیکنالوجی ہے، جس نے علمی، تعلیمی، طبی، معاشی اور سماجی میدانوں میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اسلامی شریعت اپنی جامعیت اور آفاقیت کے باعث اس جدید ٹیکنالوجی کے متعلق بھی واضح اصولی رہ نمائی فراہم کرتی ہے۔ قواعد فقہیہ کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مصنوعی ذہانت بذات خود شرعاً ممنوع نہیں، بلکہ اس کا حکم اس کے مقاصد، نتائج اور استعمال کی نوعیت کے تابع ہے۔چناں چہ اگر اس سے دین، علم، انسانیت اور معاشرے کی خدمت مقصود ہو تو اس کا استعمال قابل تحسین ہے، لیکن اگر اس کے ذریعے ظلم، دھوکہ، فکری انتشار، اخلاقی فساد یا انسانی حقوق کی پامالی کو فروغ دیا جائے تو ایسا استعمال شریعت کے بنیادی مقاصد سے متصادم ہوگا۔
مزید برآں، یہ تحقیق اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ موجودہ دور کی مصنوعی ذہانت، اگر چہ فقہی تحقیق، حدیث وتفسیر کی تلاش، مخطوطات کے تجزیے، علمی درجہ بندی اور دینی تعلیم میں ایک مؤثر معاون ثابت ہوسکتی ہے، لیکن وہ مجتہد، مفتی یا شرعی فیصلے صادر کرنے والی مستقل اتھارٹی کا مقام حاصل نہیں کر سکتی، کیوں کہ اجتہاد صرف معلومات کی فراہمی کا نام نہیں، بلکہ نصوص شرعیہ کی عمیق فہم، مقاصد شریعت کے ادراک، عرف ومصالح کی رعایت، حالاتِ زمانہ کی معرفت اور اخلاقی وشرعی ذمہ داری کے شعور کا تقاضا کرتا ہے، جو موجودہ مصنوعی ذہانت میں موجود نہیں۔ اس لیے مستقبل کا صحیح اور متوازن راستہ یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ایک مؤثر علمی معاون کے طور پر اختیار کیا جائے، جب کہ شرعی رہ نمائی، اجتہاد اور فتوی کی حتمی ذمہ داری اسی متوازن طرزِ فکر کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اہل علم اور مستند فقہی اداروں ہی کے پاس رہے۔