- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء کو جامعہ علمیہ احناف خواف میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا موضوع تھا: ’’شوہر کا طلاق دینے سے انکار؛ نکاح کے باضابطہ اندراج نہ ہونے اور نفقہ ترک کیے جانے کی صورت میں ازدواجی زندگی کے تعطل سے نکلنے کے فقہی حل۔‘‘

سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، احناف خواف کے اطلاع رسانی مرکز سے موصولہ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں متعدد مقالات کی قرأت اور مذکورہ موضوع پر بحث و تبادلۂ خیال کے بعد درج ذیل امور کی منظوری دی گئی:

1۔ فقہِ حنفی کے مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس بات کے پیش نظر کہ نکاح و طلاق سے متعلق مسائل احوالِ شخصیہ میں شمار ہوتے ہیں، اگر میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے اور عدالتی مراکز میں معاملہ پیش کرنا یا اس کی پیروی کرنا ممکن نہ ہو یا دشوار ہو، مثلاً سرکاری دستاویزات موجود نہ ہوں یا ازدواجی تعلق ثابت کرنے میں رکاوٹیں درپیش ہوں، اسی طرح اگر شوہر کی جانب سے دانستہ طور پر حقوقِ زوجیت ادا کرنے سے گریز اور انکار ثابت ہو جائے، مثلاً نفقہ ادا نہ کرنا یا شوہر کا حاضر نہ ہونا، تو بیوی خراسان کے فقہی مشاورتی اجلاس کے زیرِ نگرانی قائم ہونے والی خصوصی شرعی کمیٹی سے رجوع کرکے اپنی درخواست پیش کر سکتی ہے۔
مذکورہ کمیٹی فریقین کے بیانات، دلائل اور دستاویزات کا جائزہ لینے اور معاملے کی حقیقت کی تصدیق کے بعد اپنے شرعی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے مسئلے کے حل اور تصفیے کے لیے شرعی رائے دے سکتی ہے اور مناسب شرعی فیصلہ کرسکتی ہے۔

2۔ فقہی اعتبار سے خُلع میاں بیوی کی باہمی رضامندی پر مبنی ہے۔ اگر شوہر خُلع قبول کرنے سے انکار کرے تو اسے خُلع پر مجبور کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایسے معاملات میں، جہاں شوہر کی جانب سے طلاق یا خُلع سے انکار، یا حقوقِ زوجیت کی ادائیگی سے گریز کے باعث عدالتی مراجع نے یک طرفہ طور پر خُلع کی ڈگری جاری کی ہو، وہاں صادر شدہ فیصلے کی شرعی صحت کا مذکورہ خصوصی شرعی کمیٹی کے ذریعے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔