- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت جوابدہ نہیں / شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کے حقوق کی پیروی جاری رہے گی

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید، خطیب اہل سنت زاہدان نے دو اکتوبر ۲۰۲۶ء کے خطبۂ جمعہ میں معیشت اور عوامی مطالبات کو نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے ملک کی بڑی پالیسیوں میں تبدیلی اورنسل و مسلک سے بالاتر ایک نظام کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے “خونی جمعہ” کے سانحے کی برسی پر واضح کیا کہ شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کے حقوق کا تعاقب نتیجہ ملنے تک جاری رہے گا۔

معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے؛ کوئی عوام کی بات سننے والا نہیں
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے معاشرے کی شدید مالی اور معاشی تنگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: آج کل سب لوگ مالی اور معاشی تنگی میں ہیں اور اکثر خاندان اپنے اخراجات پورے نہیں کر پا رہے۔ مزدور، ملازمین اور یہاں تک کہ تاجر اور کاروباری لوگ بھی دباؤ میں ہیں۔ روزانہ ریٹ بدلتے ہیں، مہنگائی بڑھتی ہے اور پیسے کی قدر ختم ہو رہی ہے؛ یہ چیز اقتصادی استحکام، زندگی اور بازار کو درہم برہم کر رہی ہے۔
انہوں نے صحیح انتظام کی کمی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: یہ سنگین مسائل ہیں اور معلوم نہیں کہ ان کے حل کے لیے کب تدبیر کی جائے گی اور ان بحرانوں کا سدباب ہوگا۔ ان مسائل کا حل درایت، تدبیر اور مضبوط انتظام تھا، لیکن افسوس کہ معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے، اس پر کوئی لگام اور کنٹرول نہیں، اور اسی وجہ سے دباؤ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ دوسری طرف پابندیاں بہت وسیع ہو گئی ہیں اور ملک معاشی محاصرے میں ہے۔ لوگ درد میں ہیں، پریشان ہیں اور کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ وہ اپنے، اپنی اولاد اور اپنے ملک کے لیے روشن مستقبل نہیں دیکھتے اور یہ حالات بہت سخت ہیں۔

لوگوں کو ملک کی تقدیر میں حصہ لینے کا حق ہے؛ ہمیں اندرونی معاملات پر توجہ دینی چاہیے تھی
خطیب جمعہ زاہدان نے قوم کے بنیادی حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا: لوگوں کو اپنی اور اپنے ملک کی تقدیر میں حصہ لینے اور بات کرنے کا حق ہے۔ ملک ایرانی عوام کا ہے۔ اس طویل عرصے میں عوام کی بات سننی چاہیے تھی اور ان کی آواز پر کان دھرنا چاہیے تھا؛ اگر عوام کی بات سنی جاتی تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔
انہوں نے مزید کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اس ملک کے لیے روشنی کا کوئی دروازہ کھولے۔ جن کے پاس ذمہ داری ہے ان کا فرض بہت بھاری اور حساس ہے اور انہیں عوام اور ملک کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہم ایسے حالات میں ہیں کہ دوسروں کے بارے میں سوچنے کے بجائے ہمیں اپنی قوم اور اپنے ملک کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔

“خونی جمعہ” کی برسی؛ ہم اپنے قانونی اور مسلمہ حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے
انہوں نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں تیس ستمبر کے المناک واقعے (زاہدان کا خونی جمعہ) کی برسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “یہ ایام تیس ستمبر۲۰۲۲ء کی برسی کے ساتھ مل رہے ہیں جو بہت تلخ اور دردناک واقعہ تھا۔ لوگ صرف نماز کے لیے مصلیٰ آئے تھے اور کوئی اشتعال انگیزی نہیں تھی جو خطرہ سمجھی جائے یا کسی کو تحقیر و توہین کا نشانہ بنایا جائے، لیکن افسوس کہ ایسا ظلم ہوا جس سے عرش الٰہی ہل گیا۔
مولانا عبدالحمید نے شہدا کے پس ماندگان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: نماز ادا کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد شہید ہو گئی اور بہت سے زخمی ہوئے۔ یہ سانحہ ایرانی قوم اور خاص طور پر سیستان و بلوچستان کے لوگوں کے لیے بہت بھاری تھا اور ہر آزاد خیال انسان جس کو یہ خبر پہنچی وہ متاثر ہوا۔ جب لاشیں خاندانوں کے حوالے ہوئیں تو اللہ ہی جانتا ہے کہ ان پر کیا گزری۔ ہم اس واقعے کے شہداء اور زخمیوں کے گھروالوں اور ایران کے تمام مظلوم شہداء کے لیے دعا کرتے ہیں اور تمام ایرانیوں کے غم و رنج میں شریک ہیں۔
انہوں نے انصاف کی طلب کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے واضح کیا: ایرانی قوم کو حکام اور حکومت سے ایسی توقع نہیں تھی۔ اگر کسی میں صلاحیت اور ذمہ داری ہے تو انہیں ان غموں اور تکالیف کے ازالے کا سوچنا چاہیے، ورنہ ہم نے سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حق کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ہم اپنے اور عوام کے قانونی، جائز اور مسلمہ حقوق سے دستبردار نہیں ہوتے اور کسی کو معاف نہیں کرتے۔ شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کے حقوق کی پیروی جاری ہے اور پہنچائے گئے نقصانات کے ازالےتک ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

ایران میں نسلی اور مذہبی حکومت کامیاب نہیں‌ہوسکتی؛ پرانی پالیسیاں تبدیل کرنی چاہیے
اہل سنت زاہدان کے خطیب جمعہ نے جمہوریت کے حقیقی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکام کو یاد دلایا: اس ملک کے مالک تمام ایرانی عوام ہیں اور ملک کسی شخص یا مخصوص گروہ کا نہیں۔ جس طرح لوگوں نے انقلاب کے آغاز میں اپنی مرضی سے نہ کہ زورِ بازو پر اسلامی جمہوریہ کے نظام کو ووٹ دیا تھا، مستقبل میں بھی لوگوں سے پوچھنا اور ان کی رائے لینا چاہیے؛ جمہوریت کا مطلب ہی یہ ہے کہ جمہور کی رائے اور نظر کو معیار بنایا جائے۔
انہوں نے ملک کے انتظام میں ذاتی اور مسلکی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: اگر حکومت اسلام کی بنیاد پر چلتی اور حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور کی آزادیوں اور عدل و انصاف کی طرف توجہ کی جاتی تو مجھے یقین ہے کہ اس دن ۹۸ فیصد لوگوں نے ووٹ دیا تھا تو آج ۱۰۰ فیصد دیتے۔ لیکن افسوس کہ تم نے ذاتی اور مسلکی انداز اختیار کیا اور مذہبی سوچ جواب نہیں دے سکتی۔ ذاتی رائے کو ترجیح دینے کا نتیجہ دوسروں کی ناراضی ہے۔ اگر تم اپنا ذوق پس پشت ڈالتے اور وسیع النظری اختیار کرتے تو آج کے بہت سے مسائل پیدا نہ ہوتے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیا: ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران جیسے ملک میں جہاں نسلی، مسلکی برادریوں، اور ذوق و نظریات کی بہتات ہے، کسی مخصوص نسل اور مسلک سے منسوب حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایک ایسا نظام نافذ ہونا چاہیے جو نسل و مسلک سے بالاتر ہو، تمام مسائل کا احاطہ کرے اور سب کے لیے یکساں عدل (عورتوں اور مردوں، قومیتوں اور مذاہب و مسالک کے درمیان عدل) قائم کرے۔ ہم خیرخواہی اور ہمدردی سے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ پرانی پالیسیاں جو کام نہیں آئیں انہیں ترک کر دیا جائے اور دہرایا نہ جائے۔ ایک نیا طریقہ کار سوچا جائے جو موجودہ حالات کے مطابق ہو۔

افراد کی کمزوریوں کو اسلام کے نام پر نہ لگائیں
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کچھ لوگوں کے دین سے بدگمان ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا: آج آپ سنتے ہیں کہ ایران کے بہت سے لوگ اسلام سے بدگمان ہو گئے ہیں، حالانکہ یہ کمزوری اسلام میں نہیں؛ یہ کمزوریاں اشخاص کی ہیں اور افراد کی کمزوریوں کو اسلام کے حساب میں نہیں لگانا چاہیے۔ اسلام عدل و انصاف کا دین ہے۔ اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی زندگی کا مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ اس دور میں عدل و آزادی عملاً نافذ تھے اور یہ صرف ایک نظریہ نہیں تھا۔ میں ایرانی قوم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ خدا اور دین کو نہ چھوڑیں اور صحیح راستے پر چلیں۔

سلامتی معاشرے کے تمام طبقات کی ضرورت ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنی تقریر کے اختتام پر صوبے کی سلامتی، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں اس کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: جیسا کہ میں نے گزشتہ ہفتے نصیحت کی تھی، صوبے کی سلامتی پر توجہ دی جائے تاکہ کوئی چیلنج پیدا نہ ہو۔ سلامتی ایک ضروری مسئلہ ہے اور تمام لوگوں کے فائدے میں ہے اور تمام طبقات و اصناف کو اس کی ضرورت ہے۔ ہمیں پہلے سے یہ فکر تھی کہ اغوا اور چوری میں اضافہ مختلف قسم کی بدامنیوں کو پھیلاتا ہے اور صوبے کو مشکل میں ڈالتا ہے۔ سب کی سلامتی برقرار رکھی جائے تاکہ کوئی خطرے کا احساس نہ کرے، تمام طبقات امن کے سائے میں زندگی بسر کر سکیں اور بھائی چارہ قائم رہے۔