زاہدان (سنی آن لائن) ڈاکٹر حبیب اللہ سالار زہی، سیستان و بلوچستان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے صدر اور ممتاز علمی شخصیت، ہفتہ (۱۹ ستمبر ۲۰۲۶) کو انتقال کر گئے۔
سیستان و بلوچستان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے تعلقات عامہ نے ڈاکٹر سالار زہی کی وفات کی وجہ “دل کا عارضہ” بتائی ہے۔
سعید شیخی، سیستان و بلوچستان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر نے سرکاری خبررساں ادارہ “ایرنا” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “ڈاکٹر حبیب اللہ سالار زہی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کےتعمیراتی منصوبوں کے دورے کے دوران اچانک دل کے عارضے کا شکار ہوئے، لیکن فوری طبی اقدامات کے باوجود جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔”
ڈاکٹر سالار زہی کے قریبی افراد نے اس روایت کو مسترد کرتے ہوئے اس واقعے کے بارے میں سیکورٹی حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر سالار زہی جولائی ۲۰۲۵ سے سیستان و بلوچستان سائنس و ٹیکنالوجی پارک کی صدارت پر فائز تھے۔ ان کے نام پر اندرون و بیرون ملک کے جرائد میں ستر سے زائد سائنسی مقالات شائع ہو چکے ہیں۔
مرحوم ڈاکٹر حبیب اللہ سالار زہی، سیستان و بلوچستان یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر، کی نماز جنازہ آج اتوار (۲۰ ستمبر ۲۰۲۶) کی دوپہر مختلف طبقات کے لوگوں کی موجودگی میں مسجد جامع مکی زاہدان میں ادا کی گئی۔ بعد از آں ان کے جسد خاکی دفنانے کے لیے انہیںان کے آبائی قبرستان اسماعیل آباد ضلع خاش منتقل کردیا گیا۔
اس موقع پر محمد نبی شہیکی، وزیر سائنس اور اعلی تعلیم کے نائب، انجینئر منصور بیجار، سیستان و بلوچستان کے گورنر اور صوبائی و ضلعی سطح کے کئی حکام و منتظمین کے ساتھ ساتھ صوبے کی متعدد سیاسی و ثقافتی شخصیات بھی موجود تھیں۔
ڈاکٹر حبیب اللہ سالار زہی رحمہ اللہ کی نماز جنازہ شیخ الاسلام مولانا عبد الحمید کی امامت میں ادا کی گئی۔
مولانا عبد الحمید نے اس موقع پر اور نماز جنازہ سے قبل مختصر کلمات میں مرحوم ڈاکٹر سالار زہی کی صفات و خصوصیات بیان کیں۔ مولانا عبد الحمید نے ڈاکٹر سالار زہی کو “دیندار انسان” اور “ملک کی نمایاں علمی شخصیات” میں شمار کیا۔
انہوں نے ڈاکٹر حبیب اللہ سالار زہی کی وفات کو علمی اور یونیورسٹی حلقوں کے لیے بڑا نقصان قرار دیا اور اس مصیبت پر صوبے کے عام لوگوں، صوبے اور ملک کی یونیورسٹی برادری اور خاص طور پر مرحوم ڈاکٹر سالار زہی رحمہ اللہ کے بیٹوں اور خاندان کو تعزیت پیش کی۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے ڈاکٹر سالار زہی کی وفات کے بارے میں اٹھنے والے شبہات کا ذکر کرتے ہوئے “خودکشی” کی افواہ کو عام لوگوں کے لیے “ناقابل یقین” قرار دیا اور صوبائی سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی “غیر جانبدارانہ” اور “شفاف” تحقیقات کرکے عوام کو “حقیقت” سے آگاہ کرے۔