- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

مہسا امینی کا واقعہ ملک میں عوامی تحریک کا باعث بنا/اگر حکام لوگوں کی بات سنتے تو ہمارے ہم وطن قتل نہ ہوتے اور ملک اس سخت صورتحال میں نہ ہوتا

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 18 ستمبر 2026ء کو زاہدان میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مہسا امینی کی وفات کی برسی اور اس کے بعد کے تلخ و ناگوار واقعات و حوادث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر حکام ایرانی عوام کی بات سنتے، ان کے برحق مطالبات پر توجہ دیتے اور ملک میں تبدیلیاں لاتے تو لوگ قتل نہ ہوتے اور آج ملک اس سخت صورتحال کا شکار نہ ہوتا۔

حالیہ برسوں کے احتجاجات میں ہمارے بہت سے ہم وطنوں نے اپنی جانیں گنوائیں؛ ہم غم زدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں
اہل سنت زاہدان کے خطیب جمعہ کے دفتر کی خبررساں ویب سائٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے فرمایا: یہ ایام مہسا امینی کے واقعے سے مصادف ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں ایک عوامی تحریک پیدا ہوئی اور ہمارے عزیز ہم وطن میدان میں آئے اور انہوں‌نے احتجاج کیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد زاہدان کے مصلیٰ کا واقعہ پیش آیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شہید ہوئے۔ اسی طرح نومبر 2019ء کے احتجاجات اور دسمبر 2025ء اور جنوری ۲۰۲۶کے نہایت دلخراش واقعات بھی رونما ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا: افسوس کے ساتھ ان احتجاجات میں ہمارے بہت سے ہم وطنوں نے اپنی جانیں گنوائیں اور متعدد خاندان غم زدہ ہوئے۔ یہ واقعات انتہائی تلخ اور ناگوار تھے اور ہم تمام عزیز ایرانیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

لوگوں کی بات سننا بہترین اور آسان ترین طریقہ تھا / حکام، علماء اور معززین کو لوگوں کی بات سننی چاہیے اور ان کے تلخ الفاظ کو برداشت کرنا چاہیے
خطیب جمعہ زاہدان نے مزید فرمایا: اگر متعلقہ حکام ایرانی عوام کی بات سنتے، قوم کے برحق مطالبات پر توجہ دیتے اور ملک میں تبدیلیاں لاتے تو لوگ قتل نہ ہوتے۔ لوگوں کی بات سننا بہترین اور آسان ترین راستہ تھا جس میں اللہ کی رضا اور عوام کی خوشنودی بھی تھی اور یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کی سیرت و طریقہ کے عین مطابق تھا۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بات اس حد تک سنتے تھے کہ منافقین کہتے تھے: وہ سراپا کان ہیں۔ کاش ہمارے حکام کے پاس بھی سننے والے کان ہوتے اور وہ لوگوں کی سخت باتوں کو بھی سنتے۔ حکام، علماء، معززین، بااثر شخصیات اور جو لوگ عوام کا مرجع ہیں، انہیں دردمند انسان کی بات اور فریاد سننی چاہیے اور ان کے تلخ الفاظ بلکہ ان کی توہین کو بھی برداشت کرنا چاہیے؛ یہ سب کے لیے خیر کا باعث ہے۔

عوام کے بغیر حکومت داری ممکن نہیں؛ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں اور عوام کے برحق مطالبات کے سامنے تسلیم ہوں
مولانا عبدالحمید نے واضح کیا: اگر حکام عوام کے برحق مطالبات پر توجہ دیتے تو آج ملک اس سخت صورتحال میں نہ ہوتا اور یہ جنگیں بھی ہم پر مسلط نہ ہوتیں۔ اگر ایران کے دشمن اور بیرونی طاقتیں یہ جانتیں کہ ایران میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور عوام و حکومت متحد ہیں تو وہ ملک پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرتے۔
انہوں نے مزید فرمایا: میں متعلقہ حکام سے تاکید کے ساتھ کہتا ہوں کہ عوامی بنیں اور اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، کیونکہ عوام کے بغیر حکومت داری ممکن نہیں ہے۔ ایک ہی حکم کے تحت نہ چلیں، حالات کو مدنظر رکھیں اور چالیس پچاس سال پرانی پالیسیوں پر نہ چلیں، بلکہ اپنی پالیسیوں اور طریقوں میں تبدیلی لائیں اور دنیا اور ایرانی عوام کے ساتھ حقیقی گفتگو کا راستہ کھولیں اور عوام کے برحق مطالبات کے سامنے تسلیم ہوں۔

غیر ملکی اور پراکسی فورسز کو ایران میں داخل نہ کریں؛ بہترین پالیسی خود ایرانیوں پر اعتماد ہے
خطیب جمعہ زاہدان نے نماز جمعہ کی تقریب میں اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں ملک اور صوبے میں غیر ملکی اور پراکسی فورسز کی آمد پر تنقید کی اور فرمایا: سننے میں آ رہا ہے کہ غیر ملکی اور نیابتی فورسز کو ملک اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں داخل کیا جا رہا ہے۔ میں اس پالیسی میں کوئی خاص کامیابی نہیں دیکھتا اور میرا ماننا ہے کہ حکام کو عوام پر اعتماد کرنا چاہیے اور ان کا اعتماد بحال کر کے ان سے کام لینا چاہیے، کیونکہ مقامی لوگ ہی دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے تاکید کی: غیر ایرانی اقوام اور مذاہب کو ملک میں داخل نہ کریں۔ ایران ایرانیوں کا ہے اور صحیح و درست پالیسی یہی ہے کہ خود ایرانیوں سے کام لیا جائے۔

حالیہ پھانسیوں میں سب سے بڑا حصہ بلوچوں اور کردوں کا رہا ہے
ایران کے ممتاز عالم دین نے پھانسیوں میں اضافے پر بھی احتجاج کیا اور فرمایا: افسوس کے ساتھ حال ہی میں پھانسیوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں سے اکثر سیاسی پھانسیاں ہیں۔ سیاسی پھانسی اسلامی و شرعی قوانین، بین الاقوامی قوانین اور عالمی عرف کے خلاف ہے۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی: حالیہ پھانسیوں کی زد میں بہت سے ایرانی آئے ہیں، لیکن ان پھانسیوں میں سب سے بڑا حصہ کردوں اور بلوچوں کا رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ حال ہی میں جن لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے ان میں سے اکثر کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

عوام بھوکے ہیں؛ آپ بھوکوں کو کیوں پھانسی دے رہے ہیں؟! / موجودہ حالات میں منشیات کے بہانے پھانسی کی کوئی شرعی و قانونی توجیہ نہیں ہے
خطیب جمعہ زاہدان نے منشیات کے بہانے پھانسیوں کے سلسلے کی شدید مذمت کی اور فرمایا: اکثر پھانسیوں کا تعلق منشیات کے معاملے سے ہے، جبکہ انھی دنوں صوبے میں خشخاش کاشت کی جا رہی ہے اور منشیات و افیون تیار ہو رہی ہے اور کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔ اس صورتحال میں منشیات کی خرید و فروخت کے جرم میں لوگوں کو پھانسی دینا کیسے قابل توجیہ ہے اور یہ کس دین، شریعت اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہو رہا ہے؟! یہ کون سا قانون ہے جو ایک وقت منظور ہوا تھا اور آپ اب بھی اس پر عمل کر رہے ہیں!
انہوں نے تصریح کی: آج لوگ بھوکے ہیں، ان کی جیبیں اور پیٹ خالی ہیں اور وہ اضطراری حالت میں ہیں۔ آپ ان بھوکوں کو کیوں پھانسی دے رہے ہیں؟!

تشدد، خواہ کسی کی بھی طرف سے ہو، تشدد کو جنم دیتا ہے؛ بہترین راستہ گفتگو ہے
مولانا عبدالحمید نے علاقے میں دہشت گردی اور بدامنی کے اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عوام اور حکومت کو امن کے قیام کے لیے تشدد سے پرہیز کرنے کی ہدایت و تاکید کی۔ انہوں‌نے کہا: افسوس کے ساتھ ان دنوں دہشت گرادی، بدامنی اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ سب اس بات پر توجہ دیں کہ تشدد تشدد کو جنم دیتا ہے اور یہ تشدد نہیں ہونا چاہیے۔ تشدد خواہ عوام کی طرف سے ہو یا اہلکاروں کی طرف سے، اس کا نتیجہ تشدد ہی ہوتا ہے۔ بہترین راستہ گفتگو ہے۔

ایرانی عوام کی حالت پر رحم کریں اور صاحبِ رائے لوگوں سے مشورہ کریں
انہوں نے مزید کہا: اختلاف ملک کے لیے نقصان دہ ہے، اس کے برے نتائج ہوتے ہیں اور یہ امن و استحکام کو برباد کرتا ہے۔ طاقت، اسلحے اور غیر ملکی فورسز سے کام نہیں بنتا۔ ایران اور ایرانی عوام کی حالت پر رحم کریں، ایرانی قوم کے ساتھ بیٹھیں اور ان سے مشورہ کریں۔ ایرانی عوام کے درمیان بہت سے ایسے صاحبِ رائے لوگ موجود ہیں جن کے پاس حکومت میں کوئی عہدہ نہیں ہے، لیکن وہ اعلیٰ عقل و فکر کے مالک ہیں؛ ان سے مشورہ کیا جانا چاہیے۔

مکہ مکرمہ پر ڈرون حملہ تمام مسلمانوں کے لیے شدید باعثِ رنج بنا / حرمین کی سرزمین کی حرمت لازم ہے اور اس حرمت کا ہر حال میں پاس رکھا جانا چاہیے
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطاب کے آخر میں مکہ مکرمہ پر حالیہ ڈرون حملے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جو ڈرون حرمِ مکہ مکرمہ کی طرف داغا گیا اس نے تمام مسلمانوں کے دلوں کو چھلنی کر دیا۔ یہ قدم جس کسی کی بھی طرف سے اٹھایا گیا ہو، قابلِ مذمت و ملامت ہے۔
انہوں نے واضح کیا: حرمین شریفین کی سرزمین کی ایک خاص حرمت ہے۔ نہ صرف مسلمانوں کو ہر حال میں ان سرزمینوں کی حرمت کا پاس رکھنا چاہیے، بلکہ ان مقامات کی حرمت—جو مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق مقدس ترین مقامات ہیں—پورے عالم اور غیر مسلموں کی طرف سے بھی ملحوظ رکھی جانی چاہیے۔