سنندج (سنی آن لائن) ایران کے مغربی شہر ہمدان کی ایک مخصوص عدالت نے دو سنی علمائے کرام کو قید اور 74 کوڑے مارنے کی سزا سنائی ہے۔
کردستان کے خبررساں اداروں نے خبر دی ہے بدھ چوبیس مئی کو ہمدان کی خصوصی عدالت برائے علما نے ممتاز عالم دین ماموستا عبدالجبار لطفی کو ساڑے سات ماہ قید، 74 کوڑے اور علما کے لباس چھوڑنے کی سزا سنائی ہے۔ ماموستا لطفی صوبہ کردستان کے صدرمقام سنندج میں جامع مسجد ارشاد کے امام و خطیب ہیں۔
اسی عدالت نے ایک اور سنی عالم دین، ماموستا سید جلال اکبری کو دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ موصوف سروآباد ضلع میں دگاگا کی مسجد کے امام و خطیب ہیں۔
یاد رہے اس سے قبل ماموستا ملا سیف اللہ حسینی اور ماموستا صابر خدامرادی کو اسی عدالت نے سترہ سال قید، چوہتر کوڑے اور دو سال جلاوطنی کی سزا سنائی ہے۔ ماموستا حسینی جوانرود کے ممتاز عالم دین ہیں اور ماموستا خدامرادی ضلع سقز میں امام و خطیب اور ایک مدرسے میں استاد ہیں۔
ایران میں حالیہ احتجاجوں کے بعد حکام نے ہزاروں شہریوں بشمول سنی علمائے کرام کو گرفتار کرکے قید کی سزائیں سنائی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…