افغانستان کے درالحکومت سے پاکستانی ناظم الامور عبید نظامانی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔
مقامی میڈیا نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت میں کابل پولیس نے پاکستانی سفارتخانے کے قریب ایک عمارت کی آٹھویں منزل پر چھاپہ مار کارروائی میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔
گرفتار ملزم جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے نے پولیس کو دیکھ کر رسی سے چھلانگ مار کر فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ملزم کو دبوچ لیا۔ ملزم اتنا خطرناک ہے کہ اس نے تین کمروں میں بارودی سرنگیں بچھاری رکھی تھیں۔
ملزم کے قبضے سے ایک لانگ رینج رائفل کے علاوہ 47 رائفلز، اسنائپر اور دیگر اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ ملزم کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
کابل پولیس نے مرکزی ملزم سمیت ایک مشتبہ ملزم کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا ہے تاہم دنوں کی شناخت اور وابستگی سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔ پاکستانی ناظم الامور کو اس نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ہیڈ آف مشن کے دفتر میں داخل ہورہے تھے جو عام تعطیل کے باعث بن تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کابل میں پاکستانی سفارت خانے میں حال ہی میں تعینات ہونے والے عبید نظامانی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس پر پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید