معروف مذہبی مبلغ اور ممتاز عالم دین علامہ یوسف القرضاوی علالت کے بعد 96 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق معروف عالم دین اور اخوان المسلمین سے وابستہ علامہ یوسف القرضاوی انتقال کرگئے۔ انھیں گزشتہ برس کورونا ہوا تھا اور وہ صحت یاب ہوگئے تھے تاہم چند ماہ سے کافی علیل تھے۔
یوسف القرضاوی 1926 کو پیدا ہوئے اور مصر میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ اخوان المسلمین سے وابستہ ہوئے اور عملی جدوجہد میں حصہ لیا جس کی پاداش میں 1950 کو جمال عبدالناصر کے دور میں گرفتار بھی ہوئے۔
علامہ یوسف القرضاوی 1960 کی دہائی کے اوائل میں مصر سے قطر کے لیے روانہ ہوئے اور قطر یونیورسٹی میں فیکلٹی آف شریعہ کے ڈین کے طور پر خدمات انجام دیں جس کی بنیاد پر انھیں 1968 قطری شہریت دی گئی۔
فروری 2011 کو قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں لاکھوں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ یوسف القرضاوی نے یہ سنہری ہدایات جاری کہ اس انقلاب کو ان منافقوں کے ہاتھوں چوری نہ ہونے دیں جنھوں نے اپنا مکروہ چہرہ چھپایا ہوا ہے۔ ابھی انقلاب کا سفر ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی مصر کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے اس لیے اپنے انقلاب کی حفاظت کرو۔
علامہ یوسف القرضاوی کی زکوۃ، اسلامی قوانین کی تشریح اور اسلامی نظام کے نفاذ سے متعلق کتابوں نے عالمی شہرت حاصل کی اور اسلامی جدوجہد کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…