افغانستان کے صوبے ہرات کی مسجد کے دروازے پر زوردار دھماکے میں طالبان کے کٹر حامی اور نامور مذہبی اسکالر مولوی مجیب انصاری اپنے محافظوں اور نمازیوں سمیت شہید ہوگئے۔
الجزیرہ کے مطابق افغانستان کے صوبے ہرات کے شہر گزرگاہ کی مسجد کے دروازے پر اس وقت زوردار دھماکا ہوا جب معروف مذہبی اسکالر مولوی مجیب الرحمان انصاری اپنے محافظوں کے ہمراہ وہاں پہنچے تھے۔ مسجد میں نماز جمعہ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اور نمازیوں کی بڑھی تعداد موجود تھی۔
دھماکے کے بعد افراتفری مچ گئی اور طالبان اہلکاروں نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کرلیا۔ ریسکیو ادارے نے دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔
ہرات کے گورنر مولوی حمید اللہ متوکل نے بم دھماکے میں طالبان کے حامی مولوی مجیب الرحمان انصاری کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے محافظ اور نمازی بھی شہید ہوگئے تاہم انھوں نے تعداد نہیں بتائی۔
جائے حادثہ پر موجود عینی شاہدین نے الجزیرہ کو بتایا کہ شہید ہونے والوں کی تعداد 18 ہے اور متعدد زخمی ہیں۔ زخمیوں میں سے 4 کی حالت نازک ہونے کے سبب شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے طالبان کی گاڑیوں، مساجد اور اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری داعش خراسان قبول کرتی آئی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…