چین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں تاکہ افغانستان کی نئی حکومت کو اعتماد ملے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے اقوام متحدہ میں مندوب ژانگ جون نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ عالمی برادری نئی انتظامیہ کو اعتماد اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے تعلقات بحال کرے۔
چین کے اقوام میں مندوب ژانگ جون نے مزید کہا کہ افغانستان کی سابق قیادت کو بھی اپنے تجربات سے ملک کو فائدہ پہنچانا چاہیئے۔ حکومت ختم ہوجانے سے ان کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوجاتیں۔
چینی مندوب نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ منجمد افغان فنڈز کو فی الفور ملک کے مرکزی بینک کے حوالے کردینا چاہیئے۔ کسی بھی ملک کے پاس افغانستان کے اثاثے منجمد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
خیال رہے کہ چین نے گزشتہ برس اگست میں قائم ہونے والی طالبان حکومت کو تاحال تسلیم نہیں کیا ہے تاہم چین کے ان کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…