عالم اسلام

طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسر افغانستان پہنچ گئے

طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس افغانستان میں امارت اسلامیہ کی حکومت کے قیام کا ایک سال مکمل ہونے کی خوشی میں کابل پہنچ گئے اور طالبان حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس کو 2016 میں امریکی ساتھی سمیت یونیورسٹی کے قریب سے طالبان نے اغوا کرلیا تھا اور تین سال تک یرغمال بنائے رکھا۔
اپنے تین رہنماؤں کی رہائی کے بدلے طالبان نے دونوں پروفیسرز کو رہا کردیا تاہم اس وقت ٹموتھی ویکس اسلام قبول کرچکے تھے اور خود کو جبرائیل عمر کہلانا پسند کرتے تھے۔ رہائی کے بعد وہ کئی مواقعوں پر طالبان کی حمایت کرتے آئے ہیں۔
قطر میں ہونے والے امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے دوران بھی ٹموتھی ویکس نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی تھی اور جب طالبان 15 اگست 2021 کو افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آسٹریلوی پروفیسر نے مبارک باد بھی دی تھی۔
طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے جبرائیل عمر جب کابل ایئرپورٹ پر اترے تو ان کے چہرے پر سفید داڑھی سجی تھی، وہ سفید قمیص شلوار اور واسکٹ زیب تن قندھاری پگڑی باندھی ہوئی تھی۔
صحافیوں سے گفتگو میں پروفیسر جبرائیل عمر نے بتایا کہ اپنے سفر کا دوسرا حصہ مکمل کرنے اور اس سرزمین پر طالبان حکومت کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے کی خوشی منانے افغانستان آیا ہوں۔
رواں برس کے آغاز پر آسٹریلوی پروفیسر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ آسٹریلیا میں مقیم سابق افغان پارلیمنٹیرین سونا بارکزئی کے ساتھ مل کر افغان عوام کی بہبود کے لیے کام ایک رفاحی ادارہ قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام قبول کرنے سے متعلق بتاتے ہوئے جبرائیل عمر نے بتایا تھا کہ قید کے دوران ایک کھڑکی سے افغان بچوں کی آوازیں آتیں جو کھیل رہے ہوتے اور آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے تھے تب ہی میں نے ان بچوں کو اچھا مستقبل دینے کا ارادہ باندھ لیا تھا۔

baloch

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

1 month ago